پاکستان میں آف روڈکو ٹوورازم انڈسٹری کادرجہ دیناوقت کی ضرورت
موجودہ دور میں ٹوورازم (Tourism)کو عالمی معیشت اور ملکی ترقی و خوشحالی کا ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے- یہی وجہ ہے کہ دنیا میں مختلف سیاحتی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے افراد کی تعدا دن بدن بڑھ رہی ہے- ٹوورازم انڈسٹری دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک میں آمدنی کی ایک بڑی صنعت کے طور پر ابھر رہی ہے- خطہ پاکستان ثقافتی تنوع، منفرد تاریخی و جغرافیائی اہمیت اور خوبصورت سرزمین و قدرتی حُسن کا حامل ہے- یہ تمام خصوصیات پاکستان کو سیاحتی حوالے سے مثالی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں- ٹوورازم کے کئی سیکٹر ز ہیں جن میں ایک اہم سیکٹر آف روڈٹوورازم (Off-Rood Tourism)بھی ہے-
آف روڈ ٹوورازم میں لوگ دور داراز کی مسافت طے کرکے دوسرے علاقوں کا رُخ کرتے ہیں جس سے علاقائی رابطہ سازی(Regional Connectivity) میں اضافہ ہوتا ہے اور لوگوں کواُس علاقے کی زبان و ثقافت اور طرزِ زندگی جاننے کا موقع ملتاہے- اس کے علاوہ اُس علاقے کی معیشت مضبوط ہوتی ہے جس سے مقامی آبادی کو فائدہ ہوتا ہے اور لوگوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع کھلتے ہیں- مزید وہ علاقہ دنیا کی نظر میں آجاتا ہے اور سیاحوں کی توجہ اور اٹریکشن کا باعث بنتا ہے- آف روڈ ریسنگ کا شمار دنیا کےان کھیلوں میں ہوتا ہے جو سیر و تفریح کے علاوہ مالی فائدے کا بھی بہترین ذریعہ ہے- گزشتہ چند برسوں سے آف روڈ ریسنگ پاکستان میں عوام کے مقبول اور پسندیدہ کھیل کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے بہت کم عرصے میں موٹر سپورٹس شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے- پاکستان کے کئی خوبصورت علاقوں ( جیسے چولستان،جھل مگسی،سکردو، گوادر،سرفرنگا اور بولان) میں ہرسال آف روڈ ریلیز کے بڑے ایونٹ منعقد ہوتے ہیں جہاں موٹر سپورٹس شائقین کی ایک بڑی تعدا دشریک ہوتی ہے-
اگر دیکھا جائے تو آف روڈ میں انفراسٹریکچر کی بھی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی، صرف ٹریکس ترتیب دے کر فاصلہ متعین کرنا ہوتا ہے- پاکستان میں آف روڈ ٹوورازم حکومتی توجہ کا منتظر ہے- گرچہ حکومتِ پاکستان ٹوورازم کے مختلف شعبوں پر کام کررہی ہے لیکن بدقسمتی سےآف روڈ ٹوورازم کے فروغ کیلئے کوئی باقاعدہ انڈسٹری یا ڈیپارٹمنٹ موجود نہیں ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو چاہیئے کہ آف روڈ ٹوورازم کو باقاعدہ انڈسٹری کا درجہ دے جو آف روڈ کی ترویج اور بہتری کیلئے کام کرے- اس کے علاوہ پاکستان جس طرح ایڈوینچرٹوورازم یا ٹوورازم سے متعلقہ دیگر شعبوں پر خرچ کرتا ہے اسی طرح اگر آف روڈ ٹوورازم کی ترویج و ترقی کیلئے خرچ کرے تو ملکی معیشت کو مضبوط سہارا ملے گا جس کیلئے تمام صوبوں کے ٹوورازم ڈیپارٹمنٹس اور بلخصوص ٹوورازم منسٹری کو فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- اسی طرح دوسرے ممالک سے جو ریسرز اور گاڑیاں پاکستان آئیں ان پر ٹیکسز اور کسٹم ڈیوٹیز ختم کی جائیں تاکہ پاکستان میں انٹرنیشنل آف روڈ ٹوورازم کے راستے ہموار ہوسکیں- مزید آف روڈ ٹوورازم کی ترویج کیلئے عوامی سطح پر سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعےبھر پور مہم بھی چلائی جاسکتی ہے- آف روڈ ٹوورازم سے جہاں دنیا میں پاکستان کا مثبت اورپرامن چہرہ اجا گر ہوگا وہیں پاکستان کے قدرتی وسیاحتی مقامات، میدانی و صحرائی، ساحلی و کوہستانی علاقے بھی آف روڈ ریسنگ کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنیں گے-