قطرکا پُر خطر کھلاڑی: ناصر العطیہ
Blog Single

قطرکا پُر خطر کھلاڑی: ناصر العطیہ

ایم رضوان

انسانی زندگی میں کھیل کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا- ہر کھیل کے نہ صرف کھلاڑی بلکہ معاشرے پر بھی کئی مثبت اثرات اپنا رنگ دکھاتے ہیں- کھیل جہاں جسم کو صحتمند، دماغ کو چاق و چوبند رکھتے ہیں وہیں انسانی شخصیت کو نکھارنے اور خداداد صلاحیتوں کو ابھارنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں- مشہور معقولہ ہے کہ جہاں کھیل کے میدان آباد ہوں وہاں ہسپتال ویران ہوا کرتے ہیں- کھیل انسانی شخصیت میں حاضردماغی، تحمل مزاجی، صبر، قوتِ برداشت، وقت کی قدر، بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت، ٹیم ورک، نظم و ضبط، محنت کا جذبہ اور دوربینی و دوراندیشی جیسی صفات کو اجاگر کرتے ہیں- اگر بات کی جائے موٹر اسپورٹس کی تو عالمی سطح پہ اس کھیل کو بہت پذیر ائی حاصل ہے- مختلف ممالک میں بین الاقوامی سطح پر اس کھیل کے مختلف مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں کئی نامور ریسر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دیکھاتے ہیں ان میں ایک نام "ناصر العطیہ" کا بھی ہےجو اس جاندار کھیل میں شاندار مقام رکھتے ہیں-

21دسمبر 1970 "قطر "کے دارالحکومت" دوحہ"میں پیدا ہونے والے نومولود"ناصر صالح ناصرعبداللہ العطیہ" کو آج دنیا ناصر العطیہ کے نام سے جانتی ہے- ناصر العطیہ بچپن سے ہی کھیلوں کا دلدادہ تھا- سکول دور میں ہر طرح کے کھیلوں میں حصہ لیا، چاہے دوڑ کا میدان ہو، یافٹبال کھیلنا ، جمناسٹک میں پُھرتیاں دکھانی ہوں تو وہاں ناصر موجود ہوتا، ایسا لگتا کہ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا اسکی زندگی کا مشن تھا- عمرمیں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور ناصر العطیہ کھیلوں میں آگے بڑھتا گیا- پیدل دوڑ سے گھوڑے کی پیٹھ سنبھالی، ہارس جمپنگ میں حصہ لیاتوتقریبا چار پانچ سال کاعرصہ اس کھیل کے نام کیا- ہارس سے ہارس پاور کے سفر کاآغاز کیا، گھوڑے کی باگوں کو چھوڑا، گاڑی کے اسٹیرنگ وہیل کو تھاما، سپاٹ سے سیٹ پہ بیٹھا، رکابوں میں جو پاؤں گھوڑے کو ایڑیاں لگاتے تھے اب گاڑی کے ایکسیلیٹرپرآ گئے، جہاں گھوڑےکے سمبوں سے چنگاریاں نکلتی تھیں اب سائیلنسر سے شعلے اور ٹائروں سے دھول اڑنے لگی، گھوڑے کی ہِنہِناہَٹ کی جگہ انجن کی غُرغُراہٹ سنائی دینےلگی، پہلے گھوڑا ہواسے باتیں کرتا تھا اب گاڑی فراٹے بھرنے لگی ۔ غرضیکہ جذبہ ِدل نےہر اس چیز کو مات دی جو شوق کے مقابل آئی-

فن لینڈ کے ورلڈ چیمپئن ریسرز"ایری وتنان"Ari Vatanen))اورجوہا کانکنکین(Juha Kankkunen)سے متاثر ہوکر ریسر بنے کی نوخیز کلی دل میں کِھلی تو ہونٹوں پہ تبسم، آنکھوں میں چمک، ماتھے پہ شکن، دھیمہ لہجہ، بازوؤں میں پھرتی، دل ہمت سےلبریز  ،  دماغ صلاحیتوں سے بھرپور، اعصاب مضبوط، ریس کا جنونِ والہانہ اوراندازِ جارحانہ لئے ناصرالعطیہ ریس کے میدان میں اترا  اور  2003 "مڈل ایسٹ ریلی چیمپئن شپ"(Middle East Rally Championship)سےریس کاآغازکیا  جِس میں ''سباروامپیریزا''(Subaru Impreza) (گاڑی) 2009ءتک ناصر کو نصرت یاب کرتی رہی۔  2010ء ناصرالعطیہ نےفورڈفیسٹا (Ford Fiesta) کا اسٹیرنگ تھاما  اور  اب تک 13 ٹائیٹل اپنے نام کرچکے ہیں- واضح رہے کہ " مڈل ایسٹ ریلی چیمپئن شپ"(Middle East Rally Championship)ایک ریسنگ کمیونٹی ہےجس کی بنیاد 1984 میں رکھی گئی جو مختلف عرب ممالک میں ریسز کا انعقاد کرتی ہے، جس میں قطر انٹرنیشنل ریلی، کویت انٹرنیشنل ریلی، بحرین انٹرنیشنل ریلی، جورڈن ریلی، اومان انٹرنیشنل ریلی، دبئی انٹرنیشنل ریلی، ریلی آف لبیان، یو-اے –ای انٹرنیشنل ریلی قابلِ ذکر ہیں- مذکورہ ریلیز میں ناصر العطیہ نے کئی بار پنجہ آزمائی کی اور اب تک 77 بار چیمپئن بن کرسب سے زیادہ فتوحات اپنے نام کرنے والا ریسر  ہے۔

 2004ءسے2009ءتک "پروڈکشن ورلڈ ریلی چیمپئن شپ"Production World Rally Championship  (PWRC)میں حصہ لیا2006ء میں تجربہ کا ریسرز کے ساتھ کانٹے دار مقابلہ میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا اور فتح کا سہرااپنے سر سجانے میں کامیاب ہوئے-

2008ء ،2015ءاور 2016ء ایف آئی اے کراس کنٹری ریلی ورڈکپ (FIA Cross Country Rally World Cup) میں فتح کے جھنڈے گاڑھے اور ثابت کیا کہ فتح و نصرت کے بلند عزائم کے ساتھ ریس کی ہر تکنیک سے واقفیت رکھنے والا مایہ ناز ریسر ہوں-

2019 سے 2020 ،12 ماہ کے مختصر دورانیہ میںSilk Way Rally, the SxS category at the Afriquia Merzouga Rally, plus various Cross-Country World Cup and Middle East Rally Championshipمذکورہ ریلیز میں حصہ لیا اور فاتح قرار پایا -

ناصر العطیہ جارحانہ ڈرائیونگ میں مہارت رکھنے کے ساتھ "اسکیٹ شوٹنگ" کے بھی اچھے کھلاڑی مانےجاتے ہیں2012ءاولیمپکس میں حصہ لیتے ہوئے Bronze Medal اپنے نام کیا- اسیکٹ شوٹنگ ایک کھیل ہے جس میں مصنوعی حدف کو پرندے کی صورت فضامیں اُچھالاجاتا ہے- کھلاڑی اس متحرک حدف کو مخصوص بندوق کی مدد سے نشانہ بناتا ہے-

ڈاکار ریلی میں فتوحات کا جائزہ

2004ء میں دنیا کی سب سے بڑی اور مشکل ترین ریلی"ڈاکار"میں عزم و ہمت کے ساتھ قسمت آزمائی کا فیصلہ کیاٹریک کامیابی سے مکمل کیا دسواں نمبر اپنے نام کیا- ڈاکار کے تجربہ کار ریسرز سے گفت و شنیداورریس کی مہارتوںکا بغور جائزہ لیا-

2005ءڈاکار کے میدان ِ کارزار میں اترے لیکن اس بار قسمت کی دیوی نے ساتھ نہ دیا، ناصر العطیہ کی گاڑی الٹ گئی،  ناصرکے (معاون) ڈرائیور کی تین پسلیا ں ٹوٹ گئیں، خوش قسمتی سےناصر محفوظ رہے لیکن گاڑی اور معاون ڈرائیوارکی صورتحال مزید سفر جاری رکھنے میں آڑے آگئی اور ریس سے دستبرار ہونا پڑا- اس پرُ خطر اور کٹھن راستے پر165 گاڑیاں عازمِ سفر ہوئیں جن میں سے 75 گاڑیاں ہی منزل مقصود تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں- 2006ء"ڈاکار ریلی"میں حصہ لیا لیکن گاڑی میں فنی خرابی کے باعث ریس سےکنارہ کشی کرنا پڑی جبکہ2007ءمیں چھٹی پوزیشن اپنے نام کی-

2009ء ڈاکارمیں ایک بار پھر حصہ لیا تین اسٹیجز پرفتح مند  رہے- 9 چیک پوائنٹس مس کرنے کی وجہ سے ریس میں اپنی پوزیشن برقرار نہ رکھ پائے- ریس کے بعد دئیے گئے انٹرویو میں اُن کاکہنا تھا کہ اس دن شدید گرمی کی وجہ سے گاڑی کا درجہ حرارت کافی بڑھ گیا تھا اس لئے ہم نے بلند و بالا ٹیلوں سے بچنے کی کوشش میں متبادل اور قدرے کم بلند راستے کا انتخاب کیا جس کی وجہ سے چیک پوائنٹس مس ہوگئے-

2010ء ایک بار پھر ڈاکار ریس کا حصہ بنے تجربہ کار اور لیجنڈ ریسرز کے ساتھ کانٹے دار مقابلہ کیا، صرف 2 منٹ اور 12 سیکنڈکےفرق سےدوسرےنمبرپررہےڈاکار ریس کی تاریخ میں یہ اُس وقت تک کاکم ترین مارجن تھا- اب ڈاکار ریس میں ناصر العطیہ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی ریسرز کو باور کروا دیا کہ مہارت  ہم میں بھی ہے-

باآخر2011ء میں قسمت مہربان ہوئی- ڈاکار ریس کوناصر العطیہ کی صورت میں صحرا کا نیا شہزادہ ملا- ناصر نہ صرف ڈاکار کا چیمپئن بنے بلکہ عرب ممالک کا پہلے فاتح ِ ڈاکار ہونے کا اعزاز پایا- 2012ء دو  اسٹیجز پہ سب سے کم وقت میں سفر مکمل کیا، ایک بار پھر گاڑی میں فنی خرابی کے باعث ریس کا مزا   کرکرا ہوگیا- گاڑی پُرخطرراستے میں خطروں کے کھلاڑی کا ساتھ نہ دے پائی-2013ء میں ،3اسٹیجز کا فاتح نویں اسٹیج پر گاڑی کا واٹر پمپ ٹوٹ جانے کے باعث آگے بڑھنے میں ناکام رہا- صحرا کا شہزادہ 2014ء میں تیسری پوزیشن پر براجمان نظر آیا-

2015ء،قسمت کی دیوی ایک بار پھر لطف و عنایات کا بحرِ بے کراں لیے صحرا میں ناصر کے لئے نویدِنصرت لئے منتظر تھی- 9000 کلومیٹرپر مشتمل کٹھن ٹریک 14 دن کی ریس پر مشتمل تھا- مشکل ٹریک کی دشواریاں اورکئی نامور ریسرز کی سواریاں (گاڑیاں)ناصرالعطیہ کی جارحانہ ڈرائیونگ کے آگے نہ ٹھہر پائیں، اس طویل راستے کو 40 گھنٹے،32منٹ اور 25 سیکنڈ میں طے کرکے ایک بار پھر ڈاکار ریلی کا چیمپئن بنے-

2016ءمیں دفاعی چیمپئن نے دوسری پوزیشن اپنے نام کی- 2017ء، میں بدقسمتی سے گاڑی میں آگ لگ گئی لیکن خوش قسمتی سے ڈرائیور و معاون ڈرائیور محفوظ رہےجس کی وجہ سے ریس کو قبل از وقت ترک کرنا پڑا خیر یہ تو گیم کا حصہ ہوا کرتا ہے- 2018ء میں، ایک بار پھر دوسرے نمبر کی ٹرافی کے ساتھ پوڈیم پر موجود تھے-

2019ء، ڈاکار ریس میں ایک بار پھر ناصر کی گاڑی کی دھول ناقابلِ حصول ثابت ہوئی- قطر کے پُر خطر ریسر، ناصر العطیہ فاتحِ ڈاکار بنے- ڈاکار کے کارزار میدان میں چیمپئن بننے کا تیسری بار قسمت نے موقع دیا جسے ہاتھ سے جانے نہ دیا- تین بار ڈاکار ریلی اپنے نام کرنے والے "مشرق وسطی" اور "مغربی ایشیاء" کے پہلے ریسرقرار پائے جس نے ڈاکار کا ٹائیٹل ایک سے زیادہ بار جیتا- دفاعی چیمپئن 2020ءمیں اپنے اعزاز کا دفاع نہ کر پائے، 6منٹ اور 21 سیکنڈ کے فرق سے دوسرے نمبر پر رہے-

2021ء،سعودی عرب کے صحراؤں کو ڈاکار کےٹریک کے طور پر تسلیم کیا گیا جہاں حسبِ معمول کئی لیجنڈ ریسرز نے شرکت کی، ناصر العطیہ کی گاڑی کے3 ٹائر پنگجر ہوگئے لیکن ہمت نہیں ہاری فنش لائن کے بلکل قریب پہنچ گئے تھے جب سٹیفن نے انہیں کراس کرکےصرف14منٹ سے سبقت حاصل کرلی، اس طرح ناصرپھردوسرے نمبر پر رہے –

ڈاکار ریلی کی دشواریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ناصر العطیہ کا کہنا تھا کہ جب 2004ء میں، میں نے پہلی بار ریلی میں شرکت کی اس وقت ریس ٹریک 12000 کلومیٹر پر محیط تھا، روزانہ 14 گھنٹے گاڑی چلانا ہوتی تھی،گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت 50سے 60سینٹی گریٹ ہوتا تھا یہ بعض اوقات علاقائی موسم پہ بھی منحصر ہوتا ہے- ریس کے پہلے دن میرا وزن 71 کلوگرام تھا اور پندرہ دن یعنی ریس کے اختتام پہ 7سے 9 کلوگرام وزن کم ہوا-

موٹر اسپورٹس  کھیل ہو اور پھر ڈاکار کا ٹریک ہو تو فرد واحد  ا ِن بھول بھلیوں میں بھول جائے کہ جانا کہاں ہے یقیناً یہاں باصلاحیت ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے- اسی طرح معاون ڈرائیور بھی مددگار ہواکرتا ہے کیونکہ اسی کے سہارے، شائقین کو نظارے اور ریسر کو اشارے مل رہے ہوتے ہیں- اپنے معاون کی مدح سرائی میں ناصر کا کہنا تھا کہ میرا معاون ڈرائیور مجھے ایسے پڑھتا ہے جیسے کتاب پڑھی جاتی ہے، وہ جانتاہے کہ کب، کیا، اور کس چیز کی مجھے طلب ہورہی ہے اور وہ میرے کہے بغیر ہی مجھے کھانے پینے کی اشیاء ریس کے دوران دیتا رہتا ہے-

یہ کھیل خدادا صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سخت محنت و جانفشانی کا بھی متقاضی ہے- مشقِ مسلسل کھلاڑی میں چھپی صلاحیتوں اور مہارتوں کو مزید اجاگر کرتی ہے جس سے تجربات میں آئے روز اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے -

 

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ