پاکستان کے کثیرالجہتہی آف روڈ ٹریکس:ایک جائزہ
Blog Single

پاکستان کے کثیرالجہتہی آف روڈ ٹریکس:ایک جائزہ

ایم رضوان

کسی بھی علاقے میں کھیلوں کا انعقاد مخصوص خصوصیات اور فوائد کا حامل ہوتا ہےجو لوگوں کو ثقافت اور تہذیب وتمدن کی بنیاد پر قریب لانے کا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں- دوردرازکے علاقوں سے آئے کھلاڑی اور شائقین نئی جگہوں کو تلاشتے ہیں جہاں باسیوں کا طرزِ زندگی، رہن سہن، گفت و شنید، لب و لہجہ، ثقافت، ماحول اور آب و ہوا کا چشم ظاہر سے مشاہدہ کرتے ہوئے اِن کا اَثر قلب وذہن میں سموتے ہیں- حسین یادوں اور گزرے لمحوں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس اور دیگر جدید پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی سطح پہ آشکار کرتے ہیں جس سے گمنام علاقے عالمی سطح پہ متعارف کرنے میں مدد ملتی ہے-

خوبصورتی آنکھوں میں رنگ، کانوں میں رس، دلوں میں سروراوردماغوں میں وسعت پیداکرتی ہے،خوبصورتی کلی کی مانندپھوٹتی ہے، پھول کی صورت نکھرتی ہے، خوشبو کی طرح پھیلتی ہےجس کی تشہیر ہوا کا جھونکا کرتا ہے- میرا ملک حسین، رنگین، دلکش و دلنشین ہے اس کی خوبصورتی کا چرچا دنیائے عالم کے سامنےکرنا ضروری ہے- ہر ملک اپنی خوبصورتی کی زیبائش اور اپنی ثقافت کی نمائش کے لئے طرح طرح کے مواقع پیدا کرتا ہے- اس خوبصورتی کا شہرہ کرنے کے کئی ذرائع ہوسکتے ہیں جن میں سےایک مؤثر ذریعہ کھیل کے میدانوں کا آباد ہونا ہے- جبکہ علاقائی ثقافت کی تشہیر و پذیرائی کا ایک بہترین ذریعہ چٹیل میدانوں اور وسیع صحراؤں میں آف روڈ ریلیز کا انعقاد ہے- لہذا موٹر سپورٹس بالعموم اور آف روڈ ریلیز بالخصوص ایک ایساکھیل ہے جو نہ صرف شہروں بلکہ پہاڑوں، صحراؤں اور ریگستانوں کو بھی آباد کرتا ہے اورجنگل میں منگل کا سماں بندھ جاتا ہے-

گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں آف روڈ ریسنگ کو کافی عروج و پذیرائی مل رہی ہے ہر سال نئے ریسنگ ٹریک متعارف ہورہے - شائقین و ریسر ز میں اضافہ ہورہا ہے- پاکستان میں کئی خوبصورت ریسنگ ٹریک موجود ہیں جن میں چولستان، جھل مگسی، گوادر، تھل، سرفرنگا، ایبٹ آباد، چکوال، لاہور راوی کراس، صوابی ریور کراس، بولان جیپ ریلی، حب اور اس سال متعارف ہونے والا ڈیرہ جات شامل ہیں- ہر چند کہ عالمی وباء نے جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا ہے وہیں جیپ ریلیز پر بھی اثر انداز ہوئی جس کی وجہ سے کئی ریلیز کا انعقاد نہ ہوسکا- چند مشہور ٹریک کو ضابطہ تحریر میں لانے کی کوشش کرتے ہیں-

صحرائےچولستان

چولستان بہاولپور سے جنوب مغرب میں کم و بیش 30 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے- جِس کا رقبہ سولہ ہزار (16000) مربع کلو میٹر ہے- یہ علاقہ صحرائے تھر (جنوب مشرق میں بھارتی ریاست راجھستان اور مغرب میں سندھ) سے جا ملتا ہے- چولستان تین اضلاع پر مشتمل ہے جس میں بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یارخان شامل ہیں- مقامی زبان میں "روہی "کے نام سے معروف ہے- لوگ گیتوں میں بھی زیادہ تر اسی نام سے موسوم کیا جاتاہے

" کوئی روہی یاد کریندی ڈھولا ول آتُو،

 تیڈی شہر دی رہائش میں ہاں روہی دا واسی " -

روہی کے نام سے معروف چولستان اپنے اندر پاکستان کا سب سے بڑا ریسنگ ٹریک سموئے ہوئے ہے شروع میں یہ ٹریک اتنا طویل نہ تھا- ہر سال اس کی مقبولیت اور ٹریک میں اضافہ ہوتا چلا گیا اب یہ کم و بیش 500 کلومیٹر پر مشتمل ہے- چولستان میں گزشتہ 16برس سے جیپ ریلی کا میدان بلاناغہ سج رہا ہے، یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور کٹھن ٹریک ہے یہاں زمین نرم اور مقابلہ سخت ہوتا ہے- شائقین سال بھر اس ریس کا شدت سے انتظار جبکہ ریسر، گاڑی اورخود کو آمادہ کرنے کے جتن کرتے رہتے ہیں- یہ ٹریک ریسرز اور گاڑیوں کے لئے چیلنج تصور کیا جاتا ہے- یہ ریس چار دن پر مشتمل ہوتی ہے جس میں پریپئرڈ کلاس کی گاڑیوں کی ریس دودن، اسٹاک کیٹگری ایک دن جبکہ کوالیفائینگ اور گاڑیوں کی جانچ پڑتا ل کے لئے ایک دن مختص ہوتا ہے -

پاکستان کا طویل ترین ٹریک ہونے کی وجہ سے مشکل ترین ٹریک بھی ہے، گرمی کی شدت، سوار و سواری دونوں کے لئے آزمائش و امتحان کا سبب بنتی ہے- ریس چار لوپ پر مشتمل ہوتی ہے ہر لوپ کا ٹریک اور اس حساب سے پلاننگ مختلف ہوتی ہے جس کے لئے ریسر نہ صرف خود بلکہ گاڑی کو بھی تیار کرتا ہے- اکثر ٹریک سیدھا ہونے کی وجہ سے سپیڈی ہے جو ریسر کی مہارت ، حوصلہ اور گاڑی کی پاور کا امتحان لیتا ہے- بیرون ِممالک سے ریسر ز کی شرکت اس ریس کی پذیرائی میں مزیداضافے کا باعث بنتی ہے-

جھل مگسی

مگسی خاندان کی آماجگاہ"جھل مگسی"پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع ہے- یہ بولان، خضدار اورنصیرآباد کے درمیان قدیم اور تاریخی ضلع ہے جس کی دو تحصیلیں جھل مگسی اور گنداواہ ہیں- جغرافیائی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ پہاڑی سلسلہ، وسیع میدان، خوبصورت آبشاریں، لب باشیر چشمے، دریائےمولا، آثارِ قدیمہ اور تفریحی مقامات رکھتا ہے- جھل مگسی زرخیز اور خوبصورت علاقہ ہے کپاس، گندم اور چاول جیسی فصلوں کی بدولت خود کفیل ہے، فصلوں کا انحصار زیادہ تر نہری پانی پر ہے جبکہ چشموں اور بارش کا پانی بھی فصلوں کی آبیاری میں کلیدی کردار رکھتے ہیں- یہاں کے باسی سادہ لوح، خوش اخلاق، ہنس مکھ اور مہمان نواز ہیں-

مگسی خاندان کے چشم و چراغ اورپاکستان موٹر اسپورٹس میں اکیڈمی کا درجہ رکھنے والے"نواب زادہ میر ناردر خان مگسی"کی انتھک اور غیر متزلزل کاوشوں کی بدولت جھل مگسی میں گزشتہ 16 سال سے بلا تعطل جیپ ریلی کا میدان سجتا آرہا ہے- جویہاں کے باسیوں کےلئے میلہ کا درجہ اختیار کرگیا ہے- پاکستان کی دوسری بڑی ریلی کا انعقاد یہاں ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے کثیر تعداد میں نامور ریسرز شریک ہوتے ہیں- اس ریس کے مکمل انتظامات مگسی خاندان بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دیتا ہے-

مہمانوں کی رہائش کے لئے برقی قم قموں سے جگمگ جگمگ کرتا کیمپ سٹی، مرغن و روایتی کھانوں سے اٹھتی خوشبو اور بھوک بڑھادینے والی مہک اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے- سردی کی شدت کو کم کرنے کے لئے رات بھر کیمپ سٹی کے وسط میں جگہ جگہ آگ کے آلاؤ لگائے جاتے ہیں جن کے گرد کرسیوں پہ بیٹھے خوشگپیوں میں مگن پُرمسرت چہرے ہر پل  سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں- آلاؤ کے بیج و بیچ اٹھتا گہرا دھواں جب بادلوں میں مدغم ہوتا ہے تو عجب سماں بندھتاہے-

اگر بات کی جائے جھل مگسی ریس ٹریک کی تو یہ خوبصورت ہونے کے ساتھ گاڑی کے لئے بھاری اور ریسرز پہ حاوی سمجھا جاتا ہے- اس کٹھن ٹریک کو اکثر ریسر ز"منی ڈاکار " کہتے ہیں- کم وبیش 200 کلومیٹر پر پیچ وخم کھاتا ہوا یہ ٹریک اپنے اندر مختلف کیفیات رکھتا ہے، کہیں ریت، تو کہیں مٹی، کہیں پتھر تو کہیں پانی، کہیں ندی کنارے تو کہیں پہاڑی سلسلہ جو ریسر کی مہارت اور گاڑی کی پاور کا کڑا امتحان اور چیلنج ثابت ہوتے ہیں- مختلف رنگوں کی گاڑیاں جب انجن سے طاقتور آواز، سائیلنسر سے آگ، ٹائروں سے دھول کا پہاڑاپنے پیچھے چھوڑتی ہوئی ٹریک پر عازم سفر ہوتی ہیں تو نظارہ دیدنی ہوتا ہے-

چونکہ یہ ٹریک ریت، مٹی، پتھر، پانی اور پہاڑی سلسلے پر محیط ہے اس لئے یہاں ہر سیکشن کے لئے مختلف قسم کی ڈرائیونگ اور حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے، گاڑی کے ٹائروں کا انتخاب اس طرح کیا جاتا ہے جو ہر سیکشن کے لئے کارآمد ہوں- ندی کے کنارے ٹریک سیدھا اور تنگ ہونے کی وجہ سے کافی ہائی اسپیڈ ہے، یہاں رفتار بڑھانی ہے، گاڑی بچانی ہے اور احتیاط سے چلانی ہے ورنہ گاڑی الٹ جائےگی- تھوڑی سی بے احتیاطی گاڑی کو ٹریک سے اور کھلاڑی کو کھیل سے باہر کرسکتی ہے- مٹی میں پھسلن ہونے کی وجہ سے ٹائروں کی گرفت ڈھیلی پڑجاتی ہے- جھل مگسی کا ٹریک دریا کا سینہ چیرتا ہوا گزرتا ہے، یہاں پانی اور گاڑی کی رفتار کا آمنا سامنا ہوتا ہے- کئی گاڑیاں پانی کو عبور کرتے ہوئے فنی خرابی کا شکار ہوجاتی ہیں اور کئی پتھروں کو روندتی ہوئی، پانی کواچھالتی ہوئی بے دھڑک گزر جاتی ہیں-

ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کے مشکل ترین ٹریکس میں سے ایک جھل مگسی کا ٹریک ہے اکثر گاڑیاں اس ٹریک کی مشکلات کا سامنا نہیں کرپاتیں اور دورانِ ریس مدد کو پکار اٹھتی ہیں- یہ ٹریک گاڑی اور ڈرائیور دونوں کے لئے چیلنج ہے- جوریسر اس ٹریک کی نفسیات پر عبورحاصل کر لے اس کے لئے کوئی بھی ٹریک سر کرنا قدرے آسان ہوجائے گا-

صحرائے تھل:

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پھیلا وسیع و عریض "صحرائےتھل"جس کی لمبائی تقریباً 190 میل اور چوڑائی کم و بیش 70 میل پر محیط ہے- صحرائے تھل کا یہ سلسلہ کوہِ نمک کے جنوب میں دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے درمیان صوبہ پنجاب کے چھ اضلاع جھنگ، خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ اور مظفرگڑھ پر مشتمل مثلث نما خطہ ہے جوضلع مظفرگڑھ میں اختتام پذیر ہوتا ہے- یہ بارانی علاقہ ہے سال بھر میں دو فصلیں ( گندم اور چنا) کاشت کی جاتی ہیں- ابرِ رحمت اگر بروقت برسے تو ٹیلوں پہ ہریالی کی چادر تن جاتی جبکہ باسیوں کے چہروں پہ مسرت بکھری نظر آتی ہے کیونکہ یہی ذریعہ معاش ہے، مٹیاروں اور کنواروں کی تقریبات، سال بھر کے اخراجات اور لین دین کے معاملات فصل کی آبیاری پر منحصرہوتے ہیں-

صحرا کی خوبصورتی دیکھنے والے کو سحر میں مبتلا کردیتی ہے- جہاں دن میں سورج اپنی پوری آب و تا ب سے آگ اگلتا ہوا محسوس ہوتا ہے جوں جوں سورج سر اٹھاتا ہے چرند، پرنداور انسان سر چھپاتے نظر آتے ہیں، وہیں طلوع و غروب ِ آفتاب کا نظارہ قابلِ دید ہوتا ہے، تاحدِ نگاہ بلند و بالا ریتلے ٹیلے، شام کا دھندلکا اُفق، زینے اترتا ہوا صحرا بلندٹیلوں پہ پھیلتاہے، شفاف چاندنی اور خاموش سہانی راتیں اور ان سناٹوں کاسحرتوڑتی جانوروں کے گلے میں لٹکتی گھنٹیوں کی جلترنگ کانوں کے راستے دل میں اتر کر عجیب کیف و سرور سے سرشار کرتی ہے- دل میں اُبھار پیدا ہوتاہے، کتنی ہی خاموش اور دبی ہوئی خواہشیں انگڑائیاں لے کربیدار ہوجاتی ہیں-

یوں تو تھل میں مختلف قسم کے روایتی اور ثقافتی کھیلوں کا انعقاد طویل عرصہ سے ہوتا چلا آرہا ہے جس میں نیزابازی، گھوڑا ڈانس، شتربانوں کی ریس، شتر ڈانس اور کبڈی قابلِ ذکر ہیں- گزشتہ چار برس سےصحرائے تھل میں جیپ ریلی کا آغاز خوش آئند ہے- ٹوورازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب (ٹی ڈی سی پی )اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے2016ء سے اس ریلی کا آغاز ہوا جس کا ہر سال انعقاد کیا جاتا ہے- اس کا ٹریک 191 کلومیٹر پر محیط ہے- ضلع مظفر گڑھ اور لیہ اس کی میزبانی کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں- ریلی کا آغاز ہیڈمحمد والاکے قریب چھانگامانگا کے ٹیلہ سے ہوتا ہے، مڈپوائنٹ ضلع لیہ کے شہر چوبارہ کے قریب جبکہ اختتام بھی چھانگامانگا کے ٹیلہ پر ہوتا ہے-

تھل کا ٹریک چوڑائی کے لحاظ سے وسعت رکھتا ہے جس سےاوورٹیکنگ میں آسانی رہتی ہے- سورج کی تیز دھوپ جب سفید ریت پر پڑتی ہے تو آنکھیں چندھیا جاتی ہیں- گرمی کی شدت ریسر کو پسینے میں شرابور اور گاڑی کے درجہ حرات کو بڑھادیتی ہے- ریسر جب کامیابی سے اختتامی لائن عبور کرتا ہے دھول سے اٹے چہرے پر مسکراہٹ مداحوں کے دل موہ لیتی ہے- مداح اپنے محبوب ریسر کی بخیر آمد پہ مسروراور خدا کے مشکور نظر آتے ہیں-

تھل کا ٹریک آبادیوں کے بیچ سے بھی گزرتا ہے جہاں مکین اپنے مکانوں کے قریب درختوں کے سائے میں مجمع کی صورت ہرگزرتی گاڑی کا نظارہ کرتے ہیں جیسےہی دورسے دھویں اور دھول کا بادل اٹھتا ہوا دیکھائی دیا، تھل کی پرسکون فضااور سکوت کو توڑتا ہوا شورِ بیکراں بلندکرتا ہے- بوڑھے گہرے شکن آلود چہرے اور دھنسی ہوئی آنکھوں کے اوپر ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر دور سے دور دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، نوجوان ایڑیاں اٹھا کر،تالیاں بجاکر، ہاتھ ہلاکر، نعرے لگا کر اپنے اپنے انداز سے نہ صرف لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ ریسر زکے جوش و ولولے کومزید بڑھاتے ہیں-

بعض جگہوں پر ٹریک پہ روڈ کراسنگ بھی ہے، کہیں ہائی وے کو بھی عبور کرنا ہوتا ہے یہاں حادثے کا خدشہ مزید بڑھ جاتاہے جس سے ریسر کو احتیاط سے گاڑی چلانی ہوتی ہے چونکہ تھل کا ٹریک زیادہ تر ریتلا ہے، یہاں وائٹ سینڈ ہونے کی وجہ سے ٹائر کی گرفت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، اسٹیرنگ پہ مضبوط گرفت اور احتیاط کادامن مضبوطی سے تھامنا نہایت ضروری ہوتا ہے تھوڑی سی بے احتیاطی کھیل سے بے دخل کردیتی ہے- مذکورہ ٹریک فصلوں کےبیچوں بیج گزرتا ہے، ہریالی پر ہرگزرتی گاڑی کے ساتھ دھول کی ایک نئی تہہ بن جاتی ہے-

گوادر

پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں واقع صوبہ بلوچستان کا قابل ذکر شہر "گوادر" جدید ترین بندرگاہ کی وجہ سے شاندار مستقبل کا حامل ہے- تین اطرف سے سمندراس شہر کی حد بندی کرتا ہے- پانی میں گھِرا یہ جزیرہ نماشہر اپنے اندر بے پناہ دلکشی رکھتاہے- بحروں کے بیچ گھِرا یہ بَر کاٹکرا"گوادر" ناصرف پاکستانی بلکہ عالمی ریسرز کی توجہ بھی اپنی طرف مبذول کرواتا ہے یہی وجہ ہے کی ریسرز کی ایک بہت بڑی تعداد یہاں کھینچی چلی آتی ہے- یہ ٹریک اپنی خوبصورتی اور سی پیک (CPEC)کی بدولت ایک خاص اہمیت کا حامل اور عالمی سطح پہ توجہ کا مرکز ہے یہاں سے میڈیا اور سوشل میڈیا کے توسط نشر کی گئی خبر کو عالمی سطح پہ پزیدائی ملتی ہے جس سے پاکستان کا نام اور اس کا خوبصورت چہرہ مزید نمایاں ہوتا ہے-

گوادرمیں پہلی آف روڈ ریلی 2005ء میں ہوئی 2008ء تک باقاعدہ یہ سلسلہ جاری رہا، بعض وجوہات کی بنا پر یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہ چل سکا- تاہم 2016ءمیں پاکستان آرمی اور صوبائی حکومت کی کاوشوں سے ایک بار پھر ریلی کا میدان سجا-

2016ء میں گوادر ٹریک170کلو میٹر پر مشتمل تھا- 2017ءمیں پاکستان آرمی کی خصوصی کاوشو ں سے"پرامن پاکستان موٹر ریلی" کاانعقاد کیاگیا جو خنجراب سے شروع ہوکر پاکستان کے تمام صوبوں سے گزرتی ہوئی گوادر میں اختتام پذیر ہوئی- ریلی کے شرکاء نے 3000کلومیٹر کا فاصلہ 11 دن میں طےکیا، جہاں سے گزرے پُرتپاک استقبال ہوا، لوگوں نے محبتوں کے پھول نچھاور کئے یہی وجہ ہے کہ راہی سفر کی مشکلات اور تھکان کو پسِ پشت ڈالتے چلے آئے، ہر شہر میں لوگوں کی طرف سے ملنے والی محبت انہیں تازہ دم اور اگلے سفر کے لئے آمادہ و تیار کر دیتیں- اس ریلی کے کامیاب انعقاد نے پاکستان کے پُر امن ملک ہونے کا ڈنکا بجایا- اس ریلی میں چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اور شرکائے ریلی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انعامات تقسیم کئے-

2018ء میں ٹریک کی لمبائی میں اضافہ کر کے 270 کلو میڑ کیا گیا جس میں کچھ نئے علاقے بھی شامل کیے گئے- 2019ء میں گوادر ریلی کا انعقاد کرونا وباء کی نظر ہو گیا اور عالمی وباء کے باعث ریلی منعقد نہ ہوسکی-

 گوادر ٹریک کی انفراد یت یہ ہے کہ یہاں ٹریک کا بیشتر حصہ سیدھا ہونے کی وجہ سے کافی سپیڈی ہے، گاڑی کی سپیڈ تیز ہونے کی وجہ سے ریسر کو اپنا ذہن ہمہ وقت حاضر رکھنا نہایت ضروری ہے، لمحوں کی خطا، سزا بن سکتی ہے- اس ٹریک پہ روڈ کراسنگ بھی ہے جوکہ احتیاط کی متقاضی ہے- اس ٹریک پہ جمپ، ہمپ اور فلائٹ پاکستان کے کسی بھی ٹریک سے زیادہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کا نقصان بہت زیادہ ہوتاہے، اکثر گاڑیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں جس سے ریسر کو قبل از وقت ریس سے دستبردار ہونا پڑتا ہے- تقریب تقسیم انعامات میں اگر اسٹیج کی زینت بننا ہے تو فنش لائن عبور کرنا نہایت ضروری ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں اگر انعام پانا ہے تو ریسرز نے گاڑی کو دوڑانا، بچانا اور ٹائم پہ پہنچانا بھی ہے-

یہ تو تھے پاکستان کے چند بڑے آف روڈ ٹریک- ان کے علاوہ بھی پاکستان میں کافی خوبصورت، دلکش، پُرخطر، ریسر اور گاڑی کا کڑا امتحان لینے والے ٹریک موجود ہیں- ہر ٹریک چیلنجز سے بھرپور اور اپنا انفرادی مقام رکھتا ہے- اژدھا کی طرح بَل کھاتا ہوا ٹریک دیکھنا ہے تو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں موجود"حب" کا نظارہ کیجئے یہاں کا ٹریک ایسا ہے کہ موڑ پہ موڑ کھاتی گاڑی کی اڑائی ہوئی دھول سے راستہ دھندلاجاتا ہے بعض دفعہ حد نگاہ صفر ہوجانے کی وجہ سے ٹریک پر نظر رکھنا دوبھر ہوجاتا ہے جو یقیناً ریسر کےلئے آزمائش سے کم نہیں یہ مٹی گاڑی کے انجن پہ بھی اثرانداز ہوتی ہے- خشک پہاڑی سلسلہ اور پتھریلے ٹریک پہ گاڑی دوڑانے کا اردہ رکھتے ہیں تو "بولان " کا رخ کیجئے- اگر آپ ہرے بھرے پہاڑوں کے بیجوں بیچ، چشموں کے میٹھے اور ٹھنڈے پانی اور پتھروں پہ گاڑی چلانے کا ہنر رکھتے ہیں تو"ایبٹ آباد" کا ٹریک موجود ہے- جبکہ دوسری طرف دنیا کے بلندترین(سطح سمندر سے 7500فٹ بلند)اور ٹھنڈے صحرا"سرفرنگا " کا ٹریک ریسر زکواپنی طرف کھینچتا ہے- ریت اور پتھر پر مشتمل یہ ٹریک جب دریائے سندھ کے کناروں سے گزرتا ہے تو پانی کا شورِبیکراں اور سائیلنسر سے اٹھتی ہیبت ناک آوازپہاڑوں سے ٹکراکرگونج پیدا کرتی ہوئی واپس آتی ہے تو مسحور و مسرور کن نغموں وگیتوں کا احسا س ہوتا ہے- گاڑی کی رفتار کا پانی کی رفتار سے مقابلہ کروانا چاہتے ہیں تو"صوابی واٹرکراس" میں قسمت آزمائی کرسکتے ہیں- کھجوروں بھرے صحرا میں گاڑی چلانی ہو، گاڑی پر حقیقتاًپھول نچھاور کروانے کا ارادہ رکھتےہوں تو سال نومیں متعارف ہونے والے" ڈیرہ جات "کا رخ کیجئے یہاں پاکستان کے ہر ٹریک کی خصوصیات ہیں- یہاں ریسر ٹرافی کی صورت انعام حاصل کرتے ہیں اور یہاں کے باسی اپنی مہمان نوازی اوراخلاق سے  مہمانوں کے دل جیت لیتے ہیں-

پاکستان خوبصورتی کے ساتھ ساتھ کسی بھی ملک سے زیادہ کثیرالجہتی آف روڈ ٹریکس رکھتا ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان اس کھیل کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ عالمی سطح پہ پاکستان کا خوبصورت اور پُرامن چہرہ مزید نمایاں ہو-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ