ٹرکوں پر لگے انڈر رائیڈ گارڈ، زندگی کی علامت
ٹیم پاک ویلز
گاڑیاں جہاں آرام دہ، پُر لطف اور تیز رفتار سفر کا مزہ دیتی ہیں، وہیں خوفناک حادثات بھی معمول کا حصہ ہیں- اِن حادثات سے بچنے کے لئے متعدد کمپنیاں خاص طور پر حفاظتی انتظامات کو پیش نظر رکھتے ہوئے گاڑیاں بناتی ہیں- بڑے ٹرک، ٹرالر اور مال بردار گاڑیاں موت کا ساماں تصور کی جاتی ہیں جو سیکڑوں جانوں کے ضیاء کا باعث بن چکے ہیں- زیادہ خطرناک صورت حال اُس وقت ہوتی ہے جب بڑی گاڑی کسی خرابی کی صورت میں روڑ پر کھڑی ہو اور پیچھے سے آنے والی چھوٹی گاڑیاں اُس سے ٹکرا جائیں جو نا صرف حادثے بلکہ جانی نقصان کا باعث بھی بنتی ہے- اِن بڑی گاڑیوں کے پچھلی جانب انڈر رائیڈ گارڈ لگائے جاتے ہیں جو چھوٹی گاڑیوں کو بڑے حادثے سے محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں-
لوکل گاڑیوں میں حفاظتی اقدامات
روڈ سیفٹی اور دیگر حفاظتی اقدامات کی بات کی جائے تو ہماری لوکل گاڑیوں میں حفاظتی اقدامات بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں- اس کے برعکس امپورٹڈ گاڑیوں میں بہترین سیفٹی فیچرز دیکھے جا سکتے ہیں- اسی طرح کمرشل ٹرانسپورٹ یعنی بسوں، ٹرکوں، ٹریلر اور سامان لے جانے والی دیگر گاڑیوں کے معاملے میں سیفٹی فیچرز کی صورتحال اور بھی خراب ہے جو کہ نئی بات نہیں- بدقسمتی سے کمرشل وہیکلز سے متعلق لاپرواہی بےشمار جانوں کے ضیاء کا باعث بن چُکی ہےاور متعلقہ ادارے اِن گاڑیوں کی جانچ پڑتال میں بھی کوئی خاص توجہ نہیں دیتے-
انڈر رائیڈ گارڈز
کمرشل گاڑیوں سے متعلق بہت سے مسائل ہیں جن پر غور کرنا بہت ضروری ہے- ہمارے بیشتر ٹرک، ٹریلر یا دیگر کمرشل گاڑیاں ایک انتہائی سادہ اور بنیادی حفاظتی چیز یعنی انڈر رائیڈ گارڈز سے محروم ہوتی ہیں- جبکہ شمالی امریکا، یورپ اور دیگر ایشیائی ممالک میں انڈر رائیڈ گارڈز لگانا ضروری ہے- انڈر رائیڈ گارڈز ایک میٹل فریم ہوتا ہے جو ٹرکوں اور ٹرا لوں کے پیچھے لگایا جاتا ہے-
پیسنجر(Passenger) وہیکل کا فرنٹ اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ کسی بھی قسم کا حادثہ سامنے بیٹھے مسافروں کو نقصان نہ پہنچا سکے- اسی طرح گاڑی کے اگلے حصے میں موجود ائیر بیگزاور سیٹ بیلٹس بھی گاڑی میں بیٹھے افراد کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں-
ٹرک اور خاص طور پر ڈمپ ٹرکوں کی گراؤنڈ کلئیرنس زیادہ ہوتی ہے- کسی بھی حادثے کی صورت میں جب چھوٹی گاڑی پیچھے سے ٹکراتی ہے تو بڑے حادثے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کہ یہ ٹرک کے پچھلے حصے کے نیچے نہ چلی جائے- جس کے نتیجے میں سامنے والی سیٹ پر بیٹھے مسافروں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ اس صورت میں کسی بھی گاڑی کا فرنٹ سیفٹی ڈیزائن یا ائیر بیگز وغیرہ ناکام ہو جاتے ہیں- حتی کہ 20 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم رفتار سے چلنے والی گاڑی کا حادثہ بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گاڑی ٹرک کے پچھلے حصے کے نیچے سلپ ہونے کی وجہ سے گاڑی میں موجود افراد کا جسم ٹرک کی باڈی سے ٹکرا جائے گا- بیرون ممالک ہزاروں لوگ ایسے حادثات میں ہلاک ہو چکے ہیں اور پاکستان میں بھی ایسے حادثات میں بہت سے لوگ زخمی ہونے کے ساتھ جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے-
امریکا اور یورپ
امریکا اور یورپ میں ایجنسیز نے اس مسئلے پر کام کرتے ہوئے ایک قانون نافذ کیا ہے- انڈر رائیڈ گارڈز گاڑیوں کےحادثے کے دوران کسی بھی گاڑی کو ٹرک کے پچھلے حصے کے نیچے سلَپ ہونے سے بچاتے ہیں- امریکا میں انڈر رائیڈ اِمپیکٹ بارز زمین کی سطح سے 22 انچ سے زیادہ اونچے نہیں ہوتے جبکہ یورپ میں یہ 17 سے 20 انچ اونچے ہوتے ہیں-
پاکستان میں متعلقہ اتھارٹی اس مسئلے کا حل تلاش کرے اور ایسے تمام ٹرکوں اور ٹریلرز پر پابندی عائد کرے جو حفاظتی اقدامات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے- یہ ایک ایسا نظام ہونا چاہیے جو کسی ایجنسی کے ذریعہ ڈیزائن اور منظور شدہ ہو نہ کہ خود ٹرک چلانے والوں کے ذریعے ڈیزائن کیا گیا ہو اور اس کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جائے دوسری صورت میں اس اقدام کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا-
ایک اہم نصیحت
ہم آپ سے گزارش کریں گے کہ براہ کرم ذمہ داری سے گاڑی چلائیں- ہمیشہ ڈرائیونگ کے قوانین پر عمل کریں- آپ کی ایک معمولی سی غلطی یا لاپرواہی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے- براہ کرم دھیان سے گاڑی چلائیں اور ڈرائیونگ کے دوران کوئی دوسرا کام نہ کریں، یعنی ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کے استعمال سے گریز کریں-
اس کے علاوہ اپنے جارحانہ رویے کو کنٹرول کریں، رفتار کی حدود پر عمل پیرا ہوں- ٹریفک اور موسمی حالات کے مطابق اپنی ڈرائیونگ کو ایڈجسٹ کریں- ہمیشہ لین ڈسپلن پر عمل کریں اور کبھی بھی غلط سائیڈ سے اوورٹیک نہ کریں- آگے جانے والی گاڑی سے ہمیشہ فاصلہ رکھیں اور سیٹ بیلٹ کا استعمال کریں-