صحرائےتھل میں ہینڈلنگ کا امتحان ڈرائیورز کی مہارت اور حاضر دماغی کا دوسرا نام تھل آف روڈ ریلی
Blog Single

صحرائےتھل میں ہینڈلنگ کا امتحان

ڈرائیورز کی مہارت اور حاضر دماغی کا دوسرا نام تھل آف روڈ ریلی

ملک حسن احمد

پنجاب کا مشہور صحرا جو کہ صحرائے تھل کے نام سے جانا جاتا ہے-صحرائے تھل تقریباً 306 کلو میٹر لمبا اور 113کلو میٹر چوڑا ہے، تھل کا بیشتر حصہ ریگستان پر مشتمل ہے، جس میں ریت کے بڑے ٹیلے اور جھاڑی دار درخت دیکھنے کو ملتے ہیں، آف روڈ ریسنگ کی بدولت پاکستان کے کئی ایسے علاقہ جات جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھے وہ سامنے آئے،آف روڈ ریسنگ ایسا کھیل ہےجس میں پورے علاقے کےلوگ لطف اندوز ہوتے ہیں، چونکہ ریس ٹریک کئی کلومیٹر پر مشتمل ہوتا ہے، یوں جس جس علاقہ سے ٹریک گزرتا ہے وہاں کے لوگ مختلف مقامات پر کھڑے ہو کر ریس سے لطف اندوز ہوتے ہیں، گزشتہ سال تھل ریلی کا انعقاد تو ہوا تھامگر ٹریک کی لمبائی کم تھی ٹریک 100کلو میٹر تھا، امسال کرونا وائرس کی عالمی وباء کافی حد تک کمی ہو گئی ہے- 25، 26، 27، 28 نومبرخوبصورت صحرائےتھل میں ریلی کا انعقاد جوش و خروش کے ساتھ کیا گیا،امسال بڑی تعداد میں ریسرز نے ریس میں حصہ لیا، 100سے زائد ریسرز نے تھل کے مشکل ٹریک پر قسمت آزمائی کی، خواتین کیٹگری میں کئی نئی ریسرز نے حصہ لیا، جبکہ پروڈکشن اور پروفیشنل کلاس میں بھی نئے ریسرز نے حصہ لیا-

تھل کا ٹریک پنجاب کے دو اضلاع مظفرگڑھ اور لیہ پر مشتمل ہے، ریس کا آغاز ضلع مظفرگڑھ میں ہیڈ محمد والا سے تقریباً 15کلو میٹر دور چھانگا مانگا ٹھیلا کے مقام پر ہوا،ٹریک کی کل لمبائی 192کلو میڑ تھی جبکہ ضلع لیہ میں چوبارہ کے مقام پر مڈ پوائنٹ تھااور ریس ٹریک کا اختتامی پوائنٹ بھی چھانگا مانگا ٹیلہ کے مقام پر تھا-

تھل ٹریک تقریباً 70فیصد حصہ ہینڈلنگ سیکشن پر مشتمل ہےجوکہ پاکستان کے ریسرز کا پسندیدہ ٹریک ہے- اس ٹریک پر نئے ریسرز کو سیکھنے کا بھی موقعہ ملتا ہے- البتہ ٹریک ریسرز کے لئے بڑا چیلنج ہے، ڈرائیورز کی مہارت کے لئے امتحان سے کم نہیں ہے، ہارس پاور میگزین کے نمائندہ سے ریسرز نے بات کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ تھل ٹریک انتہائی دشوار ہے،گاڑی کو بچا کر ٹریک مکمل کر لینا بھی بڑی کا میابی ہے، ٹریک کے زیادہ حصہ پر ہینڈلنگ ہے اس لئے جاگ کر، ہوش وہواس سے چلانے والا ٹریک ہے-

25نومبر شیڈول کے مطابق گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹیگنگ اور ٹیکنیکل انسپکشن کا مرحلہ ہوا، 25نومبر کی شام ملتان میں ڈرائیورز میٹنگ کا انعقاد کیا گیا،ڈرائیورز میٹنگ کا بنیادی مقصد ریسرز کو ریس کے اصول وضوابط کے متعلق آگاہ کرنا ہے،ٹریک کے متعلق بتایا جاتا ہے ریلی کا آغاز کس مقام سے ہو گا،سٹیج بریک کہاں ہو گی اور ٹریک کا اختتامی پوائنٹ کہاں ہو گا- اس کے علاوہ اگر کوئی نیا قانون بنایا جائے اس کے متعلق آگاہ کیا جاتا ہے،جیسا کہ اس دفعہ قانون متعارف کروایاگیا کہ نئے آنے والے ریسرز3 مرتبہ سٹاک کیٹگری میں پہلے ریس کریں گے اس کے بعد پروفیشنل کلاس میں ریس کرنے کے اہل ہوں گے،جیسا کہ اس دفعہ تھل ریس ٹریک ٹالرنس 50 میٹر تھا یعنی کہ ٹریک کے سینٹر سے دونوں اطراف 50 میٹر ٹریک سے باہر جاسکتے ہیں،کچھ سینئر ڈرائیورز نے ہارس پاور کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریکی کے حوالہ سے اصول مرتب کرنے کی ضرورت ہے چونکہ بار بار ریکی کی وجہ سے ٹریک کافی حد تک خراب ہو جاتا ہے ان کا کہنا تھا ایسا قانون مرتب کیا جائے کہ ایک مرتبہ مارکنگ کے لئے ریکی کی جاسکےجبکہ انٹرنیشنل آف روڈ ریسنگ میں زیادہ تر ریسس میں ریکی نہیں کی جاتی بلکہ ریس سے کچھ دیر پہلے ریس ٹریک کھولا جاتا ہے-

اس دفعہ قانون متعارف کروایاگیا کہ نئے آنے والے ریسرز3 مرتبہ

اسٹاک کیٹگری میں پہلے ریس کریں گے

26نومبر کی صبح 9بجے چھانگا مانگا ٹیلا کے مقام پر کوالیفائنگ راؤنڈ ہوا،27نومبر کی صبح اسٹاک کیٹگری اور وویمن کیٹگری کا فائنل ریس کا دن تھا، اسٹاک کے فائنل میں 50سے زائد ریسرز نے اپنی قسمت آزمائی کی،28نومبر پروفیشنل کلاس کا فائنل ریس کا دن تھا، پروفیشنل کلاس میں 46سے زائد ریسرز شامل تھے، ہینڈلنگ سے بھر پور تھل کے مشکل ٹریک پر ملک کے نامور ریسرز نے اپنی ڈرائیونگ کی مہارت دکھائی،جس میں کئی ریسرز ٹریک مکمل نہ کر سکے، 28نومبر شام سپورٹس کمپلیکس مظفر گڑھ میں تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی، فاتحین کو میڈلز اور انعامات دیئے گئے-

تھل کے بڑے ایونٹ کو پر امن اور کامیاب کرنے میں سکیورٹی فورس نے اہم کردار ادا کیا جو کہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں، جبکہ مقامی لوگوں کا ریس میں لگاؤ اور ٹریک کے مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں شائقین کے اکٹھا ہونے سے ریسرز کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی، بلاشبہ مقامی افراد کے لگاؤ کے بغیر ایونٹ کامیاب نہیں ہوسکتے، اسطرح کے ایونٹ جہاں مقامی افراد کی تفریح کا باعث بنتے ہیں تو ساتھ ہی مقامی افراد کے لئے روزگار کی فراہمی کا سبب بھی بنتے ہیں- ایسے ایونٹ نوجوانوں کی توجہ مثبت پہلوؤں کی طرف لانےکا بہترین موقعہ ہیں- پسماندہ علاقوں میں آف روڈ ریسنگ کے انعقاد سے پاکستان کے خوبصورت علاقے جوکہ پاکستان کے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں انہیں سامنے لایا جاتا ہے،ایسے ایونٹ پاکستان کے سافٹ امیج کو دنیا کے سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور اسطرح کے پرامن ایونٹس کا کامیاب انعقاد دنیا بھر کو واضح پیغام ہے کہ پاکستان پر امن ملک ہے اور یہاں سیاحوں کو مکمل تحفظ ہے،پاکستان موٹر سپورٹس کو جتنی جلدی پاکستان میں فروغ مل رہا ہے انشاء اللہ بہت جلد دوسرے ممالک کے ریسرز بھی پاکستان میں آکر ریس میں بھر پور حصہ لیں گے-

تھل آف روڈ ریلی میں حصہ لینے والے ریسرز کی پوزیشنز اور مقررہ وقت بالترتیب درج ذیل ہے:

اے پریپیرڈ کیٹگری

اے پریپیرڈ کیٹگری میں پہلی پوزیشن زین محمود نے حاصل کی اورتھل آف روڈ ریلی2021ء کے چئمپین ٹھہرے،انہوں نے اپنا مقررہ فاصلہ 02:08:40میں طے کیا،جبکہ دوسری پوزیشن صاحبزاد ہ سلطان نے حاصل کی اورمقررہ فاصلہ 02:12:02میں مکمل کیا اور تیسری پوزیشن میر نادر علی مگسی نے حاصل کی اورمقررہ فاصلہ 02:14:36 میں مکمل کیا-

اے سٹاک کیٹگری

اے سٹاک کیٹگری کےنتائج بڑے دلچسپ رہے اور بڑا سخت مقابلہ دیکھنے کوملا- پہلی پوزیشن یاسر احمدغنی نے حاصل کی انہوں نے مقررہ فاصلہ 02:25:46منٹ میں طے کیا جبکہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے عقیل احمد تین منٹ لیٹ ہوئے یوں انہوں نے یہ فاصلہ 02:28:58.منٹ میں مکمل کیا- تیسری پوزیشن بیبرک بلوچ نے حاصل کی انہوں نے ٹریک 02:30:40منٹ میں مکمل کیا-

بی پریپیرڈ کیٹگری

بی پریپیرڈ کیٹگری میں پہلی پوزیشن اسد خان شادی خیل نے حاصل کی انہوں نے اپنا فاصلہ 02:23:38منٹ میں مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن چوہدری سعود مجید نے حاصل کی انہوں نےمقررہ وقت 02:25:57 منٹ میں طےکیا اور تیسری پوزیشن نعمان سرانجام نے مقررہ فاصلہ 02:26:38 منٹ میں مکمل کر کے حاصل کی-

بی سٹاک کیٹگری

بی سٹاک میں پہلی پوزیشن ٹیم سلطان کے صاحبزادہ سلطان بہادر عزیز نےحاصل کی جنہوں نے مقررہ فاصلہ 02:25:57میں مکمل کیا- یاد رہے صاحبزادہ سلطان بہادر عزیز کا ٹائم اے سٹاک کے ونر سے 11 سیکنڈ زیادہ ہے- جبکہ دوسری پوزیشن بسم اللہ مگسی نے حاصل کی جنہوں نے ٹریک کو 02:28:07 منٹ میں مکمل کیا اور تیسری پوزیشن عفنان خلیل نے حاصل کی اور ان کا ٹائم 02:30:37 منٹ تھا-

سی پریپیرڈ کیٹگری

پہلی پوزیشن ظہیر حسین شاہ نے حاصل کی انہوں نے مقررہ فاصلہ 02:27:35 میں طے کیا جبکہ دوسری پوزیشن محمد اسامہ اقبال نے حاصل کی ان کا ٹائم 02:28:31 تھا - تیسر ی پوزیشن محمود مجید نے حاصل کی اورانہوں نے 02:39:27 منٹ میں ٹریک مکمل کیا-

سی سٹاک کیٹگری

پہلی پوزیشن زبیر حیات نے حاصل کی انہوں نے مقررہ فاصلہ 02:47:15 منٹ میں کیا جبکہ دوسری پوزیشن راشد عبداللہ نے حاصل کی انہوں نے ٹریک 02:47:23 میں مکمل کیا اورتیسری پوزیشن ایم منیر جہاندیر نے حاصل کی ان کا ٹائم 02:47:53 منٹ تھا -

ڈی پریپیرڈ کیٹگری

پہلی پوزیشن ظفر بلوچ نے حاصل کی انہوں نے ٹریک 02:30:51 منٹ میں مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن عمر اقبال کانجو نے حاصل کی انہوں نے اپنا فاصلہ 02:33:01 منٹ میں مکمل کیا اور تیسری پوزیشن بےواگ مزاری نے حاصل کی ان کا ٹریک مکمل کرنے کا ٹائم 02:42:09 رہا-

ڈی سٹاک کیٹگری

ڈی سٹاک کیٹگری میں پہلےنمبرپرآنےوالےتاج خان مہر تھےجنہوں نے02:42:42منٹ میں ٹریک مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن فلک شیر بلوچ نے حاصل کی اور ان کاٹائم02:43:59 منٹ ہے- تیسری پوزیشن شاہ گل مزاری نے حاصل کی انہوں نے 02:44:07 منٹ میں ٹریک مکمل کیا-

وومن پریپیرڈکیٹگری

ریلی میں خواتین ریسرز نے بھی گاڑیاں دوڑا کر ریسنگ کے شائقین کے دل جیت لیے- پہلی پوزیشن تشنہ پٹیل نے حاصل کی ان کا مقررہ فاصلہ 01:27:13 منٹ میں مکمل ہوا جبکہ دوسری پوزیشن 22 سالہ ماہم شیرازقریشی نے حاصل کی اور انہوں نے 01:32:09 میں ٹریک مکمل کیا -

وومن سٹاک کیٹگری

پہلی پوزیشن پلوشہ حیات خان نے حاصل کی اور اپنا مقررہ فاصلہ01:32:34 منٹ میں مکمل کیا جبکہ دوسری پوزیشن ندا واسطی نے حاصل کی اور فاصلہ 01:35:46 منٹ میں مکمل کیاجبکہ تیسرے نمبر پردینہ پیٹل اور انہوں نے ٹریک 01:41:00 میں مکمل کیا-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ