سوزوکی مہران سے سوزوکی آلٹوتک کا سفر
Blog Single

سوزوکی مہران سے سوزوکی آلٹوتک کا سفر

80 ہزار سے 8 لاکھ تک  پہنچنے کی کئی وجوہات، کامیابیاں اور ناکامیاں: طائرانہ نظر

ٹیم پاک ویلز

پاکستانیوں کے لیے سوزوکی مہران کسی سنہری یاد سے کم نہیں ہے- یہ ایک ایسی گاڑی ہے جو تقریبا ہر پاکستانی ڈرائیو کر چکا ہے- اس گاڑی کاذکرذیل میں تفصیل سے کیا جاتاہے-

مختصر تاریخ:

مہران آج سے قبل 32 سال پہلے 1989 میں لانچ کی گئی تھی- اس سے قبل اس کا نام آلٹو تھا اور شروعات کے کئی سالوں میں اسے سیکنڈ جنریشن آلٹو بھی کہا جاتا تھا- مہران کار سوزوکی FX کی جدید شکل ہے یہی وجہ ہے کہ یہ FX سے کافی مماثلت رکھتی ہے- لانچ کے وقت مہران کی قیمت صرف 90 ہزار روپے تھی-

یہ ایک 5 دروازوں والی ہیچ بیک ہے- گزشتہ کئی سالوں میں اس کے انٹیرئیر، ایکسٹیرئیر اور انجن میں معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں- اس میں 796 سی سی اور 4 سپیڈ مینوئل گئیر باکس کے ساتھ 3 سلنڈر پیٹرول انجن دیا گیا ہے-

اس گاڑی کی ہمیشہ ریکارڈ سیل دیکھی گئی ہے- مقامی لوگ اسے The Boss کے نام سے بھی پکارتے ہیں- مہران کو مارچ 2019 میں بند کر دیاگیا تھا اور اس کی جگہ 660 سی سی آلٹو لانچ کی گئی ہے جو مہران کی طرح مقامی طور پر ہی تیار کی جاتی ہے-

اچھی چیزیں

مہران کی شکل اس قدر پر کشش نہیں کہ اسے کسی بھی طرح سے خوبصورت گاڑی کہا جا سکے- یہ ایک عام شہری کے لیے بنائی گئی ایک سادہ کار ہے-

یہ ایک سستی کار تھی جس کی وجہ سے اسے مارکیٹ میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی- مہران کی نہ صرف قیمت کم تھی بلکہ کم دیکھ بھال اور سستے سپئیر پارٹس کی وجہ سے بھی اسے استعمال کرنے کے بعد بھی اچھی قیمت میں فروخت کیا جاتا ہے-

یہ پہلی کار تھی جو کافی سستی ہونے کے وجہ سے ہر شہری کی پہنچ میں تھی- موٹرسائیکل خریدنے والا شخص بھی اس کو آسانی سے خرید سکتا تھا-

فیول ایوریج کی بات کی جائے تو اس بارے کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی- کچھ صارفین کے مطابق شہر میں اس کی فیول ایوریج 13 کلومیٹر فی لیٹر اور ہائی وے پر 18 کلومیٹر فی لیٹر ہے جبکہ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ شہر میں گاڑی کی فیول ایوریج 16 کلومیٹر فی لیٹر اور ہائی وے پر 20 کلومیٹر فی لیٹر ہے- دیگرگاڑیوں کی نسبت مہران کی فیول ایوریج کافی بہتر ہے-

بری چیزیں

مہران سے متعلقہ بری چیز یہ تھی کہ 20 سال کے لمبے دورانیے میں اس میں کسی قسم کی بھی تبدیلی نہیں کی گئی- اس کے بیس یونٹ VX میں بلیک بمپر دیا گیا تھا جبکہ اس میں ائیر کنڈیشن کی سہولت موجود نہیں تھی جبکہ VXR ویرینٹ میں باڈی کے رنگ کا بمپر دیا گیا تھا اور اس میں اے سی بھی دیا گیا تھا- ان دونوں ویرینٹس میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا بڑا فرق موجود نہیں تھا- اس کے علاوہ VX ویرینٹس کے چند لمیٹڈ ایڈیشن بھی لانچ کیے گئے تھے جن میں اے سی کی سہولت دی گئی تھی-

گاڑی میں رئیر ونڈو ڈیفوگر اور سائیڈ ائیر کنڈیشننگ وینٹس بھی موجود نہیں تھے- اس میں صرف دو فرنٹ وینٹس دئیے گئے تھے جس سے گرمیوں کے موسم میں پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے مسافروں کے لیے سفر کرنا مشکل ہو جاتا تھا- اس کے علاوہ گاڑی میں RPM میٹر بھی نہیں دیا گیا تھا-

حیران کن بات یہ ہے کہ مہران میں شروعات کے کئی سالوں میں سیٹ بیلٹ جیسا بنیادی سیفٹی فیچر بھی نہیں دیا جاتا تھا جو 2000 کی دہائی کے آخر میں گاڑی میں متعارف کرایا گیا تھا- گاڑی میں رئیر سیفٹی بیلٹس، اے بی ایس بریکس اور ائیربیگز بھی موجود نہیں تھے-

2010 کی دہائی کے وسط میں مہران میں ساونڈ سسٹم اور فرنٹ ڈور سپیکرز متعارف کروائے تھے جن کی ساؤنڈ کوالٹی انتہائی بری تھی- گاڑی فرنٹ اور رئیر آرم ریسٹ بھی موجود نہیں تھے- اس کے علاوہ دیگر 660 سی سی جاپانی گاڑیوں اور مقامی سطح پر تیار کی جانے والی آلٹو کی نسبت مہران میں لیگ روم بھی کافی کم تھا-

مہران سے آج بھی محبت باقی ہے-

لانچ کے وقت 90 ہزار روپے والی مہران کے VX ویرینٹ کی فروری 2019 میں قیمت 825000 روپے تھی جو اس کی قیمت میں 817 فیصد حیران کن اضافہ ہے-

قیمت میں سستی لیکن مسلسل اضافے کے باوجود مہران اپنی بیشتر پیداوار کے سالوں میں عوام کی پسندیدہ اور انتہائی مانگ والی گاڑی رہی ہے- اس کے بعد آنے والی سوزوکی آلٹو مارکیٹ میں کیسی کارکردگی دکھاتی ہے؟ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ