بین الاقوامی قوانین اور آف روڈ ریلیز کابنیادی تعارف
Blog Single

بین الاقوامی قوانین اور آف روڈ ریلیز کابنیادی تعارف

کسی قانون و ضابطہ کےبنا کسی کھیل کامنعقدہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے 

عبدالباسط

ہر کھیل کے کچھ قوانین و ضوابط ہوتے ہیں جِنہیں لاگو کر کے اِس کھیل میں نکھار اور خوبصورتی پیدا کی جاتی ہے- قوانین کے لاگو کرنے سے کھیل میں مقابلے کی فضا برقرار رہتی ہے اور کھلاڑی اُن قوانین کی روشنی میں اپنی صلاحیتوں کا اِستعمال کرتے ہوئے بہتر سے بہترین پرفارم کرنے کی کوشش کرتے ہیں- فٹبال، کرکٹ، باسکٹ بال، ہاکی ہو یا گاڑیاں دوڑانے کا مقابلہ ہر جگہ قوانین کا اطلاق لازم ہوتا ہے اور اِن تمام گیمز کی سرپرستی کوئی نہ کوئی ذِمہ دار ادارہ ضرور کرتا ہے- اِسی طرح موٹر سپورٹس بھی ایک اِنٹرنیشنل کھیل ہے جِس کے مقابلے دُنیا کے ہر کونے میں متعلقہ اِداروں کی سرپرستی میں منعقد ہوتے ہیں جو وضع کئے گئے قوانین کی بالا دستی کو قائم رکھتے ہیں- ریسنگ کی دُنیا میں اِنٹرنیشنل فیڈریشن آف آٹو موبائلز(FIA) اور دیگر آرگینائزنگ باڈیز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو ریسنگ کے عالمی قوانین بنانے کے ساتھ بے شمار اِنٹرنیشنل مقابلے منعقد کروانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں- اِن اِداروں کے بنائے گئے قوانین موٹر سپورٹس مقابلوں میں حُسن، خوبصورتی اور مقا بلے کی فضا پیدا کرتے ہیں-

اگر موٹر سپورٹس کے عالمی آرگنائیزرز کی تفصیلات دیکھی جائیں تو بے شمار ادارے محلے وقوع کے اعتبار سے اِس کھیل کی ترویج و ترقی میں اَپنا نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں- آف روڈ ریلیز ہوں یا آن روڈ ریسز، ہر ریس اَپنی نوعیت کے اعتبار سے گاڑی کی ہیئت، انجن کی طاقت اور حفاظتی اقدامات کی بنیاد پر بہت سارے قوانین پر مشتمل ہوتی ہے- اِسی طرح آف روڈ ریسنگ کے عالمی قوانین کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو ریسز کی نوعیت کے اعتبار سے بھی اِن میں بہت وُسعت پائی جاتی ہے- ہم یہاں آف روڈ ریسنگ کے عالمی قوانین کا جائزہ لیں گےاور دیکھیں گے کہ کس طرح متعقلہ ادارے ٹریک کی مناسبت سے ڈرائیور اورگاڑی کے لئے اقدامات اُٹھاتے ہیں تا کہ شائقین زیادہ لطف اندوز ہو سکیں-

سیفٹی:

ہر کھیل میں کھلاڑی کی حفاظت انتہائی ضروری ہوتی ہے- موٹر سپورٹس میں خاص طور پر اِس چیز کو مدِنظر رکھا جاتا ہے کہ اگر گاڑی کو حادثہ پیش آجائے تو ڈرائیور اور کو ڈرائیور ہر طرح سے محفوظ رہیں - اِس کے لئے گاڑی کو اندر سے مکمل رول کیج کیا جاتا ہے اور موٹے پائپوں کا خاص فریم پوری گاڑی میں فکس کیا جاتا ہے- ڈرائیور اور کو ڈرائیور کے لئے ضروری ہے کہ وہ خا ص ڈرائیونگ سوٹ پہنیں اور پھر ریس کریں- اِس کے علاوہ فرسٹ ایڈ باکس، اچھے سیٹ بیلٹ اور فائر قوینچ (Fire Quench) گاڑی میں موجود ہونے چاہیں- ریس سے پہلے گاڑی کے ٹائر ، سسپینشن ، شاک، وہیل، انجن ، باڈی، سٹیئرنگ، بریک اور ٹرانسمیشن وغیرہ خاص طور پر چیک کئے جاتے ہیں- پرانے یا زائد چلے ہوئے ٹائر والی گاڑی کو ریس سے آؤٹ کر دیا جاتا ہے- کسی بھی طرح کی لیکیج گاڑی کو ریس سے آؤٹ کرنے کے لئے کافی تصور ہوتی ہے- اِس لئے گاڑی کو مکمل فِٹ ہونا چاہیئے- ہر ریس سے پہلے ریس آرگنائیزرزگاڑی کی مکمل انسپیکشن کرتےہیں اور کسی بھی طرح سے اگر سیفٹی اقدامات پورے نہ ہوں تو گاڑی کو ریس میں جانے سے روک دیتے ہیں- ہرٹیم ریس میں حصہ لینے کےلئے مکمل انتظامات اور اقدامات کے ساتھ میدان میں اُترتی ہے تا کہ ایونٹ میں بہترکارگردگی پیش کر سکے-

ایف آئی اے (FIA) تمام سیفٹی میئرز (Measures) کی جانچ پڑتال کے لئے مندرج ذیل کمیٹیاں بناتی ہے تا کہ کِسی بھی طرح سے کوئی کمی بیشی نہ رہے-

  •  سیفٹی ڈیلیگیٹ   
  • میڈیکل ڈیلیگیٹ
  • ٹیکنیکل ڈیلیگیٹ
  • میڈیا ڈیلیگیٹ
  • ریس ڈائریکٹر
  • ڈپٹی ریس ڈائریکٹر
  • ڈپٹی میڈیکل ڈیلیگیٹ
  • آبزرور

یہ پورا سٹاف ریس کو ہر طرح سے بحفاظت اور کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے ریس میں حصہ لینے والوں سے بھی تعاون کی اُمید رکھتا ہے-

ٹریک واک:   ریس شروع ہونے سے پہلے تمام ڈرائیورز کو ٹریک دیکھنے اور پڑھنے کی اجازت دی جاتی ہےلیکن اِس دوران کسی بھی طرح کی ہُلڑبازی یا تیز رفتاری قطعاً منع ہے- ٹریک واک میں گاڑی کی سپیڈ دِی گئی لِمٹ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے اور یہ واک عموما چھوٹی گاڑی میں کی جاتی ہے- مخصوص ٹائم کے بعد ٹریک پر جانا بالکل ممنوع ہوتا ہے اور اِسےمکمل بند کر دیا جاتا ہے-

لائسنس:کسی بھی طرح کی ریس میں جانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کی اُس ریس میں کِس لیول کا اجازت جامہ (لائسنس) ضروری ہے- ریس سے پہلے ڈرائیور کو مطلوبہ ڈاکومنٹس متعلقہ آرگنائیزرز کو جمع کروانے ضروری ہیں - عام طور پر ریسز میں ہیوی لائسنس کا ہونا ضروری ہوتا ہے جو کہ باقاعدہ ٹیسٹ پاس کر کے حاصل کیا جاتا ہے- معزور، زَخمی اور بھینگے پن کے شکار افراد کو ریسز میں گاڑی دوڑانے کی اِجازت نہیں ہوتی- ہر ریس سے پہلے جہاں گاڑی کو ہر طرح سے پَرکھا جاتا ہے وہیں ڈرائیور اور کو ڈرائیور کا میڈیکلی فِٹ ہونا بھی ضروری ہوتاہے-

گاڑیوں کی کیٹگریز:ریسز میں گاڑیوں کو انجن کی پاور اور ٹیکنیکل وجوہات کی بنیاد پرمختلف کیٹگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے- پاکستان کی آف روڈ ریسز میں گاڑیوں کی تقسیم پاور اور تیاری کے حساب سے پریپئرڈ(A,B,C,D) اور سٹاک (S1, S2, S3, S4) کیٹگریز میں کی جاتی ہے-

سٹاک گاڑیاں

پریپئرڈ گاڑیاں

ڈیزل

پٹرول

ڈیزل

پٹرول

3501 یا زائد

3401 یا زائد

SA

3501 یا زائد

3401 یا زائد

PA

 2701-3500

2701-3400

SB

 2701-3500

2701-3400

PB

1801-2700

1801-2700

SC

1801-2700

1801-2700

PC

0001-1800

0001-1800

SD

0001-1800

0001-1800

PD

مندرجہ بالا طاقت اور تقسیم کی بنیاد پر گاڑیوں کو اُن کی کیٹگری میں دوڑنے کی اِجازت دی جاتی ہے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مثلاًپاکستان میں جو گاڑی جِس کیٹگری میں درج ہو گی اُسی میں دوڑے گی- کسی اور کیٹگری میں نہیں دوڑ سکتی- سٹاک اور پریپئرڈ گاڑیوں کو ریس نمبر بھی الاٹ کئے جاتے ہیں جن میں پریپئرڈ گاڑیوں کی:"A" کیٹگری کو تین ڈیجٹ نمبر 101 سے الاٹ کئے جاتے ہیں-

“B”کیٹگری کو تین ڈیجٹ نمبر 201 سے الاٹ کئے جاتے ہیں-

“C” کیٹگری کو تین ڈیجٹ نمبر 301 سے الاٹ کئے جاتے ہیں-

D” کیٹگری کو تین ڈیجٹ نمبر 401 سے الاٹ کئے جاتے ہیں-

جبکہ سٹاک کیٹگری کی گاڑیوں کی ترتیب مندرجہ ذیل رکھی جاتی ہے-

 “SA” کیٹگری کو تین ڈیجٹ نمبر 501 سے الاٹ کئے جاتے ہیں-

“SB” کیٹگری کو تین ڈیجٹ نمبر 601 سے الاٹ کئے جاتے ہیں-

“SC” کیٹگری کو تین ڈیجٹ نمبر 701 سے الاٹ کئے جاتے ہیں-

“SD” کیٹگری کو تین ڈیجٹ نمبر 801 سے الاٹ کئے جاتے ہیں-

اِس کے علاوہ عورتوں کی کیٹگری کے لئے تین ڈیجٹ901 سے اُوپرنمبر الاٹ کئے جاتے ہیں-

ٹریک رولز:ریس شروع ہوتے وقت ہر ڈرائیور کا ٹائم نوٹ کیا جاتا ہے اور اُسے ایک سٹیمپ شدہ پرچی دی جاتی ہے جسے وہ ہر پِٹ سٹاپ پر دکھا کر اُس پرنیا ٹائم درج کرواتا ہے- آف روڈ میں اِس اُصول کو خاص طور پر لاگو کیا جاتا ہے- پرچی گم ہونے یا خراب کرنے کی صورت میں ڈرائیور کو پلنٹی ڈالی جاتی ہےاور اُس کے ٹوٹل ٹائم میں کمی کر دی جاتی ہے- اِس کے علاوہ اگر دوران ریس ڈرائیور وضع کئے گئے اُصولوں کو فالو نہ کرے تو بھی پلنٹی لگائی جاتی ہے جِس سے ڈرائیور کافی پیچھے چلا جاتا ہے اور ساری محنت رائیگاں جاتی ہے-

ریسز کے لُطف کو دوبالا کرنے کے لئے ضروری ہے کی ریس قوانین کی پاسداری کی جائے اور متعلقہ اِدروں سے مکمل تعاون کیا جائے- اِس سے نہ صرف کھیل میں حُسن پیدا ہوتا ہے بلکہ شائقین میں ریس سے متعلق مزید شوق بڑھتا ہے اور اِنٹرنیشنل کمیونٹی بھی اُس ریس کی طرف متوجہ ہوتی ہے جبکہ دیگر ممالک کے لوگ بھی اُس میں شرکت کے خواہش مند ہوتے ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے-

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ