پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل اورضروری اقدامات
پاکستان میں انٹر سٹی ٹرانسپورٹ سسٹم نسبتاًبہتر جبکہ انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ کا باقاعدہ نظام نہ ہونے کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن ہے
عصر ِ حاضر میں شہریوں کی بنیادی ضروریات میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی شامل ہے- پبلک ٹرانسپورٹ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ترقی پذیرممالک کا مسئلہ ہے- پاکستان میں شہری آبادی جس قدر تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کے مقابلے میں شہر میں ٹریفک کے مسائل بھی بڑھتے ہی جارہے ہیں، سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک ایسے لگتی ہے کہ صحرا میں شتر بےمہار دندنا رہے ہوں جس کے باعث نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ شہریوں کے وقت کا ضیاع اور صحت کے خطرات میں بھی بڑھ رہے ہیں- ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومتی سطح پر پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کی بہتری پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی- جہاں ایک طرف پبلک ٹرانسپورٹ کا مسئلہ ہے وہیں دوسری طرف ٹریفک قوانین کے باقاعدہ لاگو نہ ہونےسے ذاتی گاڑی میں سفر کرنے والےبھی سفر سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے-
پبلک ٹرانسپورٹ میں انٹر سٹی ٹرانسپورٹ کانظام پاکستان میں اچھا اور منظم ہے جبکہ انٹراسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہت خراب ہے- انٹر سٹی ٹرانسپورٹ میں بسوں کی بڑی تعداد، انکی مناسب دیکھ بھال اور جدید ورکشاپس ہیں- صاف ستھرے ٹرمینلز جن پر مسافروں کیلئے تمام جدید ترین سہولیات موجود ہیں اور یوں مسافروں کو محفوظ، پرلطف اور سستی سفری سہولیات مہیا ہوتی ہیں- تربیت یافتہ عملہ، مسافروں کومسلسل اور بلاتعطل سروسسز کی فراہمی، ملازمین اور مکینیکل اسٹاف کے لئےفرنشڈ ہاسٹلزکی دستیابی وغیرہ- گوکہ اس میں مسائل اور مزید بہتری کی جاسکتی ہے– اسکے برعکس انٹراسٹی ٹرانسپورٹ میں غیر منظّم سروسزہیں جن کا نہ ہی باقاعدہ شیڈول اور اسٹاپس ہیں اور نہ ہی یہ صارفین کے معیار پر پورا اترتی ہیں- پبلک ٹرانسپورٹ کی اس خستہ حالی کی وجہ سے ملازمت، تفریح، تعلیم، مارکیٹ کےلئے سفر کرنا""Suffer کرنے سے کم نہیں ہے- کار پارٹس کمپنی مسٹر آٹو کی رپورٹ کے مطابق 2019ء میں دنیا کے 100 بڑے شہروں کے سروے کے نتائج سے معلوم ہواکہ کراچی کا شمار ان شہروں میں ہوتا ہے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا بدترین نظام ہے- ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی والے شہرکراچی میں گرین لائن، ریڈ لائن، بلیو لائن، اورنج لائن، بی آر ٹی کے ساتھ سرکلر ریلوے جیسے منصوبے خوش آئند ہیں لیکن ان منصوبوں سے صرف اس روٹس پر موجود آبادی فائدہ اٹھائے گی جبکہ باقی روٹس کی آبادی آرام دہ سفر سے محروم رہے گی جس کیلئے باقاعدہ بسیں چلانے اور ایک پورا جال بچھائے جانے کی ضرورت ہے- بالفاظ دیگر Mass Transit Project سے ہی پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنایا جاسکتا ہے-
اسی طرح سوا کروڑ آبادی کے شہر لاہور میں بھی حالات ایسے ہی گھمبیر ہیں، شہری شکوہ کناں ہیں کہ کچھ ایسے روٹس ہیں جہاں بالکل بسیں نہیں ملتی جبکہ چندایک روٹس پر سپیڈو بسز چلائی گئی ہیں، مزید ابھی اورکئی ایسے روٹس ہیں جن پر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے- پاکستان کے بڑے شہروں میں جہاں عوامی گاڑیوں میں سفر کرنا مردوں کےلئے مشکل ہے، خواتین کےلئے اس کے مقابلہ میں کئی گناہ زیادہ بڑامسئلہ ہیں- خواتین کا بس میں سفرکرنا جوئے شیر لاناہے جہاں خواتین کو ہراساں کرنا تو معمولی سی بات نظر آتی ہے-
مزید براں! پاکستان کے چند شہری علاقوں کی حالیہ صورتحال یوں ہےکہ پچیس سے تیس منٹ کا سفر کرنے کےلئے بس کے سٹاپ پرآنے کے مقررہ اوقات نہ ہونے کی وجہ سے جتنی دیر کا سفر کرنا ہوتا ہے اس سے زیادہ وقت گاڑی کے انتظار میں ضائع ہوجاتا ہے- اسکے علاوہ ایک طرف پبلک ٹرانسپورٹ مالکان بعض دفعہ خود سے کرائے کے نرخ بڑھالیتے ہیں تو دوسری طرف منافع خوری کیلئے چھوٹی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں جن میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے مسافر گاڑی کے پائدان اور چھت پرسفر کرتے نظرآتے ہیں– یہ بدترین صورتحال ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کی ناقص پالیسیزاورعدم توجہی کا منہ بولتا ثبوت ہے-
بدقسمتی سے ہمارے ہاں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو بہترنہیں کیا جارہا جبکہ دوسری جانب ترقی یافتہ ممالک اپنے معاشروں کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے الیکٹریکل بسیں چلا رہے ہیں-حکومت کو ٹریفک قوانین لاگو کرنے اور روڈ انفرا سٹرکچرز کو کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کےلیے Multi-Modal Transportation مہیا کرنے کی ضرورت ہے- مزید صوبائی حکو متوں کو ٹرانسپورٹ سے متعلقہ اتھارٹیز کو فعال کرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے مستقل اقدامات اور بہتر ٹرانسپورٹ پالیسیز مرتب کرنی چاہییں-