پاکستان آف روڈ ریسنگ اورچندبنیادی درپیش مسائل
Blog Single

پاکستان آف روڈ ریسنگ اورچندبنیادی درپیش مسائل

عبدالباسط

کھیل کسی بھی علاقے کے مخصوص کلچر، روایات اور وہاں کے باسیوں کے رہن سہن کو متعارف کروانے کا اہم ذریعہ تصور کئے جاتے ہیں- بعض کھیل محلِ وقوع کے اعتبار سے کسی خاص جگہ یا علاقے تک ہی محدود رہتے ہیں جو لوکل لیول پر تو نمایاں حیثیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن عالمی سطح پر خاص پذیرائی حاصل نہیں کر پاتے- کچھ کھیل عالمی سطح پر نہ صرف کھیلے جاتے ہیں بلکہ اُن کے انعقاد، کھیلنے کے انداز اور کھلاڑیوں کے لئے ایک جیسے قوانین اُن کی پہچان بن جاتے ہیں اور پوری دُنیا کے شائقین اُنہیں دیکھنے اور اُن سے لُطف اندوز ہونے کے لئے مواقع تلاش کرتے ہیں جن میں ہاکی، کرکٹ، فٹبال، ریسز اور دیگر بےشما ر ایسے کھیل شامل ہیں جو ہر طرح سے انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں- ہر مُلک کی آب و ہوا اور حکومتی پالیسیز کھیلوں کے اِنعقاد میں اپنا اہم کردار ادا کرتی ہیں- پاکستان میں عالمی سطح کے بہت سارے کھیل کھیلے جاتے ہیں جِن کے اِنعقاد میں پاکستان ہر وقت پیش پیش رہتا ہے- اِن مقابلوں کے اِنعقاد سے جہاں عالمی دھارے میں شمولیت کا موقع ملتا ہے وہیں اپنے پلیئرز کو سیکھنے کے مواقع بھی میسر آتے ہیں- یہ مقابلے دُنیا کو مزید قریب لانے اور ایک دوسرے کی روایات اور کلچر کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں

باقی کھیلوں کی طرح آف روڈ ریسنگ بھی ایک کھیل ہےجسکے دُنیا بھر میں بے شمار مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں جن میں ڈاکار، فارمولاآف روڈ، باھا، چولستان500، ڈیزرٹ شو ڈاؤن،میکسیکن 1000 وغیرہ شامل ہیں- اِن کے علاوہ بھی بہت ساری ریسز ہر سال منعقد ہوتی ہیں جن سے دُنیا بھر کے شائقین لُطف اندوز ہوتے ہیں- اگر پاکستان میں آف روڈ ریسنگ کی بات کی جائے تو کچھ عرصہ پہلے تک یہاں لوگوں میں اِتنا شعور نہ تھا اور نہ ہی اِس طرح باقاعدہ مقابلے منعقد کئے جاتے تھے- کسی بھی کھیل کی سرپرستی اگر حکومتی سطح پر ہونا شروع ہو جائے اور لوگوں میں اُس سے متعلق آگاہی پیدا کی جائے تو وہ کھیل ایک ایڈونچر کے طور پر نِکل کر سامنے آتا ہے- پاکستان میں جہاں حکومت نے آف روڈ ریسنگ کو سپورٹ کیا وہیں پاک فوج نے بھی بے شمار قُربانیاں پیش کرتے ہوئے ایک پُر اَمن مُلک بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے- دہشت گردی کے ناسُور کو جَڑ سے اُکھاڑ پھینکنے میں پاکستان کے دفاعی اِداروں کا کوئی ثانی نہیں- اِسی کی بدولت آج پاکستان کے تشخص اور خوبصورتی کو پوری دُنیا میں اُجاگر کرنے کے لئے بے شمار آف روڈ ریسز منعقد کی جاتی ہیں جِن میں چولستان500  جیپ ریلی، تھل ڈیزرٹ چیلنج، جھل مگسی آف روڈ چیلنج، سکردوآف روڈ، گوادرآف روڈ ریلی، تھر ڈیزرٹ ریلی، لاہورفلڈ لائٹ ریلی کراس، حب ریلی کراس، ڈیرہ جات میلہ اور بولان کنٹری سائیڈریلی وغیرہ شامل ہیں- اِن ریسز کو دیکھنے کے لئے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی شائقین کی بھی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی ہے- حکومت اور افواجِ پاکستان نے جہاں اِن ریسز کے اِنعقاد میں اپنا کردار ادا کیا وہیں میڈیا کا کردار بھی قابلِ ستائش ہے- ملک کے نامور ریسرز نے نئے آنے والوں کو خندہ پیشانی اور خلوصِ دل سے ویلکم کیا اور ہر طرح سے اُنہیں مدد فراہم کی تا کہ اِس کھیل کو باقاعدہ متعارف کروایا جائے اور کنٹری سائیڈ کو ایکسپلور کیا جائے- اِس سے جہاں ملکی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہےوہیں لوگوں کو روزگار کے بے شمار مواقع مُیسر آتے ہیں اور سیاحت کو بھی فروغ ملتا ہے- اِن تمام معاملات کے باوجود ابھی بہت سارا کام باقی ہےاسلئے دیگر کھیلوں کی طرح موٹر سپورٹس میں بھی پیش رفت کی ضرورت ہے جس کیلئے حکومت ِ پاکستان اپنا کردار ادا کرسکتی ہے- لوکل ریسرز کو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اِنٹرنیشنل سطح پر اپنے ٹریکس اور ریسز کو رجسٹرڈ کروانا بھی ایک اہم ٹاسک ہے

باقی کھیلوں کی طرح آف روڈ ریسنگ بھی ایک کھیل ہےجسکے دُنیا بھر میں بے شمار مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں جن میں ڈاکار، فارمولاآف روڈ، باھا،چولستان500، ڈیزرٹ شو ڈاؤن،میکسیکن 1000 وغیرہ شامل ہیں

اگرموازنہ کیا جائے تو دیگر ملکوں کی نسبت پاکستان میں موٹر سپورٹس کا نظام زیادہ ایڈوانس نہیں ہے جس وجہ سے ریسرز کوکئی مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے- ریسرز اپنے طور پر تھوڑی بہت پریکٹس تو کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس کوئی خاص پریکٹس ٹریکس موجود نہیں ہیں اور نہ ہی باقاعدہ گائیڈ کرنے کا کوئی انتظام موجود ہے - حکومتی سر پرستی میں سینئر ریسرز کی موجودگی میں کوئی گورننگ باڈیز بنانی چاہیئےتا کہ اِس کھیل کو مزید ترقی دی جا سکے- نہ صرف آف روڈنگ بلکہ آن روڈ ریسز کو بھی سپورٹ کرنا چاہیئے تا کہ نوجوان ریسرز بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کر سکیں- اِس کے لئے ضروری ہے کہ باقاعدہ ٹریکس بنائے جائیں اور لوگوں میں اِس سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے

ہمارے ہاں آف روڈ ٹریکس کے بھی کافی مسائل ہیں - جِن میں مقامی آبادی کے ایشوز سرِفہرست ہیں - اِن مسائل کو بھی حل کرنا چاہیے تا کہ منعقد ہونے والی ریسز بہتر اور مؤثرطریقے سے اپنے شیڈول کے مطابق انعقاد پذیر ہوں- ریسرز کے لئے پریکٹس شیڈول بننے چاہیے اور ہر ریسر کو کسی ٹیم کی طرف سے ریس میں حصہ لینے پر پابند کیا جائے- اس کے لئے ضروری ہے کہ بڑے بزنس گروپ اور سٹیک ہولڈرز اِس کھیل میں شامل ہوں اور اپنی ٹیمز رجسٹر کروائیں تا کہ ریسرز کے معاشی مسائل کا بھی حل نکلے اور کھیل میں جِدت پیدا ہو- ملک گیر ٹرائل اِس کھیل میں خوبصورتی اورمقابلے کی فضا بنا سکتے ہیں

پاکستان کے تشخص اور سافٹ امیج کو دُنیا میں اُجاگر کرنے میں چولستان500  جیپ ریلی، تھل ڈیزرٹ چیلنج، جھل مگسی آف روڈ چیلنج، سکردوڈیزرٹ ریس، گوادرآف روڈ ریلی، تھر ڈیزرٹ ریلی، لاہورفلڈ لائٹ ریلی کراس، حب ریلی کراس ڈیرہ جات میلہ اور بولان کنٹری سائیڈ ریلی وغیرہ شامل ہیں

لوگ اِن کھیلوں سے محظوظ ہونے کے لئے دور دراز کے علاقوں سے میلوں سفر طے کرکے میدانی، ریگستانی، دریائی، پہاڑی اور سمندری ساحلوں کا رُخ کرتے ہیں جس سےمقامی لوگوں کو کثیر آمدنی کے ساتھ باہر کی دنیا سے متعارف ہونے کا موقع ملتاہے- کثیر تعداد میں لوگوں کی آمد سے اُن کی رہائش اور کھانے پینے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں- ریسرز کوبھی دی جانے والی سہولیات ناکافی ہونے کی وجہ سے دُشواریاں پیش ہوتی ہیں- گاڑیوں کو تیار کرنے سے لے کر ریس ٹریک تک لانے میں بھی ریسرزکی معاونت ضروری ہے- اِ ن مسائل کو اگر دیکھ لیا جائے اور حل کرنے کی کوشش کی جائے تو کافی چیزیں بہتر ہو سکتی ہیں- ریس کے دوران جہاں ڈرائیور اور کو- ڈرائیور کی لائف اِنشورنس ضروری ہے وہیں گاڑی کی بھی انشورنس ضروری قرار دینی چاہیے تا کہ کسی بھی نقصان کی صورت میں ریسر کی مدد کی جا سکےاور نئے آنے والوں کے لئے آسانیاں پیداہوں-

بڑے بزنس گروپ اور سٹیک ہولڈرز کواِس کھیل میں شامل  ہونا چاہیئےاور اپنی ٹیمز رجسٹر کروانی چاہیئں تا کہ ریسرز کے معاشی مسائل کا بھی حل نکلے اور کھیل میں جِدت پیدا ہو

پاکستان میں آف روڈ ٹوورازم بھی حکومتی توجہ کا منتظر ہے- گرچہ حکومتِ پاکستان ٹوورازم کے مختلف شعبوں پر کام کررہی ہے لیکن بدقسمتی سےآف روڈ ٹوورازم کے فروغ کیلئے کوئی باقاعدہ ڈیپارٹمنٹ موجود نہیں ہےجو کہ آف روڈ ٹوورازم کو ایک انڈسٹری کے طورپرلے- اس کے علاوہ پاکستان جس طرح ایڈوینچرٹوورازم یا ٹوورازم سے متعلقہ دیگر شعبوں پر خرچ کرتا ہے اسی طرح اگر آف روڈ ٹوورازم کی ترویج و ترقی کیلئے خرچ کرے تو ملکی معیشت کو مضبوط سہارا ملے گا جس کیلئے تمام صوبوں کے ٹوورازم ڈیپارٹمنٹس اور بلخصوص ٹوورازم منسٹری کو فعال کرنے کی ضرورت ہے- اسی طرح دوسرے ممالک سے جو ریسرز اور گاڑیاں پاکستان آئیں ان پر ٹیکسز اور کسٹم ڈیوٹیز ختم کی جائیں تاکہ پاکستان میں انٹرنیشنل آف روڈ ٹوورازم کے راستے ہموار ہوسکیں- مزید آف روڈ ٹوورازم کی ترویج کیلئے عوامی سطح پر سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعےبھر پور مہم بھی چلائی جاسکتی ہے- آف روڈ ٹوورازم سے جہاں دنیا میں پاکستان کا مثبت اورپرامن چہرہ اجا گر ہوگا وہیں پاکستان کے قدرتی وسیاحتی مقامات، میدانی و صحرائی، ساحلی اور کوہستانی علاقے بھی آف روڈ ریسنگ کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنیں گے-

پاکستان میں آف روڈ ٹوورازم حکومتی توجہ کا منتظر ہے- حکومتِ پاکستان کو آف روڈ ٹوورازم کے فروغ کیلئے کوئی باقاعدہ ڈیپارٹمنٹ قائم کرنا چاہیئے جوکہ آف روڈ ٹوورازم کو ایک انڈسٹری کےطورپرلے- اس کے علاوہ پاکستان جیسےایڈوینچرٹوورازم یا ٹوورازم سے متعلقہ دیگر شعبوں پرتوجہ دے رہا ہے آف روڈ ٹوورازم بھی اسی توجہ کا منتظر ہے

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ