فارمولا ون کا نوجوان چیمپین
Blog Single

فارمولا ون کا نوجوان چیمپین

ایرٹن سینا

تو فیق الرحیم مہر

21 مارچ 1960 کو برازیل کے شہر ساو پآولو کے قریب واقع سانٹانا نامی گاؤں میں ایک تاجر کے گھر پیدا ہونے والابچہ ایرٹن سینا اپنے عہد کا بہترین ریسر کہلایا۔ گاڑیوں کا شوق اوران میں دلچسپی بچپن سے ہی اُ ن کی طبیعت کا حصہ بن گیا، جسے انکے والد نے مزیدتقویت دی۔ ایرٹن سینا کے والد نے ان کے اس شوق کو بھانپتے ہوئےگھاس کاٹنے والی مشین 1-HP lawnmowerکا انجن استعمال کرتے ہوئے ان کو اس وقت ایک کارٹ گاڑی بنا کر دی جب ان کی عمر محض چار برس تھی۔ جب اس نے اپنی عمر کے دس سال پورے کیےتو ان کو والد نے (100-cc) کارٹ گاڑی کا تحفہ دیا لیکن اس وقت ان کے لیےکسی بھی ریس میں حصہ لینا ناممکن تھا کیونکہ اس زمانے میں برازیل میں قانون تھا کہ کارٹ ریس میں حصہ لینے والے کھلاڑی کی عمرکم از کم عمر 13 برس ہو۔آخر کار 1973 کو13 برس کی عمر میں انہوں نے پہلی مرتبہ کارٹ ریس میں حصہ لیا۔ریس کی دنیا میں یہ ان کے لیےمشکل وقت تھا کیوں کہ اس وقت ان کے مد مقابل ان سے عمر میں بڑے اور تجربہ کار لوگ تھے ،اس مشکل گھڑی میں بھی ان کے والد نے انکا بھر پورساتھ دیا۔

سریس کا تذکرہ کرتے ہوئے کارٹ کہتے ہیں کہ کارٹ ریسنگ مستقبل کے ڈرائیور کے لئے ایک درس گاہ کی اہمیت رکھتی ہے۔۔ جیسا کہ ہر کارٹ ریسنگ ڈرائیور کا خواب یورپ اور عالمی چمپین شپ ہوتا ہے، ایرٹن سینا کی یہی لگن تھی، کہ آنے والے دنوں میں انہوں نے اپنے بہت اعلٰی درجے کے ڈرائیوروں کے مابین اپنی قابلیت کو منوانا تھا۔ 1977 میںColegio Rio Brancoسے ریاضی، کیمیا اور انگریزی میں گریجویشن مکمل کی ۔ 1977 میں ہی ایرٹن نے جنوبی امریکہ کارٹ چمپین شپ میں اپنی قابلیت کا سکہ منوایا اور جیت اپنے نام کی ۔یہ جیت اگلے سال کی چمپئین شپ میں بھی ان کے نام ہی رہی ۔ 1979 میں وہ یورپ واپس آئےاور ایک چمپین شپ مکمل کی جبکہ اسی سال بیلجیم میں ہونے والی ریس میں دوسری پوزیشن پر رہے۔ جب وہ 1981 میں برطانیہ گئےتو وہ Lilian de Vasconcelos Souza سے ازدواجی بندھن میں بندھ چکے تھے،تب تک انہوں نے 1600 سی سی گاڑیوں کے ساتھ ہر ہفتے ریس کرنا شروع کر دی تھی۔ ایرٹن سینا کا جذبہ دیکھ کر وین ڈیمن نامی ریس کی گاڑیاں بنانے والی کمپنی نے انہیں اپنی ایک گاڑی تفویض کی ۔وہ1981 میں اپنے ریسنگ کیریئر کے لئے انگلینڈ منتقل ہوئے، توانہوں نے ٹاؤنسینڈ-تھورسسن فارمولہ فورڈ 1600 چیمپئن شپ(Townsend-Thoreson Formula Ford 1600 championships) )اور RAC آر اے سی کے مقابلہ میں وین ڈایمن ٹیم(Van Diemen teamکے تحت شرکت کی اور دونوں چیمپئن شپ میں فتح حاصل کی۔

ایرٹن کے لئے مشکل وقت وہ تھا جب مزید ریس کرنے لئے انہیں سپانسر کی ضرورت تھی اور مقابلہ بہت سخت تھا، کیونکہ بہت سارے مایہ ناز برازیلین ڈرائیور اس دوڑ میں شامل تھےمگر شومئی قسمت کہ اس سے نا امید ہو کر انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ برازیل واپس آ کر اپنے والد کا کاروبار منسلک ہو گئے۔ مگر انکے شوق اور جذبے نے انہیں ریس ٹریک سے زیادہ عرصہ دور نہ رہنے دیا اور وہ چار ماہ بعد موٹر ریس کی دنیا میں واپس لوٹ آئے۔ اسی ریس کے شوق کے باعث انہیں اپنی ازدواجی زندگی سے ہاتھ دھوناپڑے۔ انکی بیوی ان بدلتے حالات میں اپنے آپ کو سنبھال نہ سکی اور اس نے ایرٹن سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا۔ ریس کی دنیا میں واپس آنے کے بعد انہوں نے 1982 میں British and European Formula Ford 2000 championships "برطانوی اور یورپی فارمولا فورڈ 2000 چیمپئن شپ"اپنے نام کی، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے Formula 3 Grand Prix میں بھی کامیابی نے ان کے قدم چومے۔

1988کا سال ایرٹن کی زندگی کا سب سے تاریخی سال تھا اسی سال انہوں نے McLaren team "میک لارن ٹیم" میں اپنی جگہ بنائی اور ساتھ ہی اپنی زندگی کی پہلی Formula One Championship"فارمولا ون عالمی چیمپئن شپ"جیت کر تمغہ اپنے نام کیا۔ 1990 میں کامیابی کے عزم کو دہراتے ہوئےانہوں نے ایک مرتبہ پھر فارمولا ون عالمی چیمپئن شپ کی جیت اپنے نام کی۔ 1991 میں تیسری مرتبہ اپنے چیمپئن شپ ٹائیٹل کا دفاع کرنے کے بعد فارمولاون کی تاریخ میں انہوں نےجوان ترین تین مرتبہ عالمی چیمپئن ہونے کا اعزازاپنے نام کیا جس سےوہ دنیا میںMASTER OF MONACO "ماسٹر آف موناکو" کے نام سے معروف ہوئے۔

11 اکتوبر 1993 کو ایرٹن نےولیمز- رینولٹ ٹیم (Williams-Renault team)میں شمولیت اختیار کی ۔ اس کے بعد انہیں ہر ایک ریس کا 1 ملین ڈالر اور ہر سیزن کا 20 ملین ڈالر دیا جاتا تھا۔ انکی اپنی ٹیم کے لئے پہلی ریس برازیل میں، دوسری آیڈاجبکہ تیسری اور آخری ریس اٹلی میں ہوئی جس میں حادثے کے باعث انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔سان ماروین گرینڈ پری کے دوران یکم مئی ، 1994 کو ناقابل یقین واقع رونما ہوا اور 34 سالہ آیرٹن پھر کبھی دوڑ نہ پائے. ان کی موت کو ایک قومی سانحہ قرار دیا گیا تھا، جس پربرازیل کی حکومت نے تین یوم تک قومی سوگ کا اعلان کیا۔ لوگ اس عظیم ریسر سے کتنی ٹوٹ کر محبت کرتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقریبا تین ملین افراد نے اس اعلیٰ ریسرکی آخری رسومات میں شرکت کی۔ انہیں ریاستی قانون سازاسمبلی"آئیرپورویرپارک" میں دفنایاگیا۔ ان کے جسم کو عوامی دیدار کے بعد، آخری رسومات کے لئے "موروموبی قبرستان" میں منتقل کیا گیا۔ایک تو ان کی میت کو Artillery Brigade"آرٹیلری بریگیڈ" کی طرف سے 21 توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ اس کے ساتھ 7 برازیل ائیر فورسزطیاروں نے ہیرے کی بناوٹی شکل میں پرواز کر کے آیرٹن سینا کو خراج تحسین پیش کیا۔

 عہدِجدید میں" ایرٹن سینا"کا شمار فارمولا ون کےصفِ اول کے ڈرائیوروںمیں ہوتا ہے.ایک کامیاب ریسرہونے کے ساتھ وہ انسانی ہمدردی رکھنے والےایک غیر معمولی انسان تھے انہوں نے برازیل میں غربت کو کم کرنے کے لئے 400 ملین ڈالر کا عطیہ دیا۔انہوں نے برازیل کے بچوں کی مدد کرنے کے لئے ایک تنظیم بھی قائم کی، جو بعد میں انسٹی ٹیوٹ ایرٹن سینا کے طور پر جانی جانےلگی۔ ایرٹن سینا نے نہ صرف ریس کے میدان میں شہرتِ دوام حاصل کی ابلکہ انہوں نےفلم کی دنیا میں بھی اپنا لوہا منوایا ۔ انکی فلم "Senna"آج تک انکے شائقین اور مداحوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔

 

ایرٹن سینا کے مدّاح ان کی شخصیت اور ان کی ڈرائیونگ کی طرح ان کے اقوال اور باتوں سے بھی بے حد محبت کرتے ہیں ۔ آئیے اس عظیم تاریخ ساز ریسر کی کچھ نہایت شہرت پانے والی باتوں سے کچھ مٹھاس اور کچھ جذبہ حاصل کرتے ہیں:

I have no idols. I admire work, dedication and competence.

میں شخصیت پرست نہیں ہوں ۔ میں کام، لگن اور صلاحیت کی تعریف کرتا ہوں۔

You will never know the feeling of a driver when winning a race. The helmet hides feelings that cannot be understood.

ریس جیتنے پر آپ ڈرائیور کے احساسات کبھی نہیں جان سکیں گے. ہیلمٹ جذبات کو چھپالیتا ہے جو سمجھے نہیں جا سکتے.

When you are fitted in a racing car and you race to win, second or third place is not enough.

جب آپ ریسنگ کار میں بطور ڈرائیور شریک ہوتے ہیں اور آپ جیتنے کے لئےدوڑتے ہیں تو، دوسری یا تیسری پوزیشن کافی نہیں ہے۔

I am not designed to come second or third. I am designed to win.

میں دوسرےیا تیسرے نمبر پر آنے کے لئے نہیں بنا ۔ میں جیتنے کے لئےبنا ہوں۔

If you have God on your side, everything becomes clear.

اگر آپ ک خدا آپ کی  طرف  ہے تو سب کچھ صحیح ہو جاتا ہے۔

The danger sensation is exciting. The challenge is to find new dangers.

خطرےکاا حساس بہت دلچسپ ہوتاہے۔ اصل چیلنج نئے خطرات تلاش کرناہے۔

Fear is exciting for me.

خوف میں میرے لئے بہت جوش ہے۔

I just love winning.

مجھے جیتنے سے محبت ہے۔

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ