ٹریفک اورروڈ سیفٹی :ہماری ذمہ داریاں
افضل عباس خان
موٹر سپورٹس کھیل دنیا میں بہت مقبول ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اس کھیل نے پاکستان میں بہت زیادہ پذیرائی حاصل کی ہے۔ اس کھیل کےفروغ اورعوام تک اس کھیل کو پہنچانے کیلئےمیگزین ہارس پاور کا اجرا کیا گیا ہے ۔ معاشرے پر ٹریفک کےمنفی اثرات کےبارےآگاہی کےلئےیہ مجلہ پرعزم وکوشاں ہے۔ اس میں خاص کر معاشرتی اصلاح کے لئے روڈ ٹریفک کےبالعموم اورریس ٹریک کےبارے بالخصوص جوآگاہی سیکشن متعارف کرایا ہےوہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کےلئے بڑا خوش آئند و لائقِ ستائش قدم ہے۔جس سے موٹر سپورٹس کو پاکستان میں مؤثر طریقے سے متعارف کروانے میں بڑی مدد ملےگی۔اس ماہانہ میگزین میں سپورٹس کے ماہرین ،شائقین اور ڈرائیورزکے علاوہ پاکستان کے عام عوام کی آگاہی کیلئے مضامین شامل ہوں گے ۔جس سے عوام میں روڈ سینس، ٹریفک کےاصول وقوانین سےآگاہی اورسماجی ومعاشرتی پہلوؤں کی اصلاح ہو گی ۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ملکی قوانین پر خاص کر ٹریفک کے حوالے سے نفاذ اورعمل درآمد سرکاری انتظامیہ کیلئے ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے ۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اس کا ترقی پذیر کہلانا صرف اس وجہ سےہے کہ اس ملک میں اس کےقوانین پر عمل درآمدنہیں ہوتا۔ امیرآدمی نان کسٹم گاڑی پر پورے ملک میں آزادی کے ساتھ گھوم سکتا ہے،مگر ایک غریب آدمی دو دن تاخیر سے ٹوکن ادا نہ کرنے پر بھی گاڑی بند کروا بیٹھتا ہے۔قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے سے اور اختیارات کا نا جائزاستعمال معاشرے میں بدامنی ،لاقانونیت اوراقربا ء پروری کےفروغ کا باعث بنتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ٹریفک کا بے ہنگم شور،بے احتیاطی ،غلط پارکنگ اور دوسروں کے حقوق کا خیا ل نہ رکھنے سے ،اپنے حقوق کے حصول کی دوڑ میں دوسروں کی حق تلفی اور اپنے فرائض سے لا علمی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جس سے عوام ذہنی طور پر پریشان اور الجھن کا شکار ہوکررہ جاتی ہے ۔ پچھلے چند سالوں سے پاکستان میں موٹر سپورٹس کے رُجحان میں کافی تیزی سےاضافہ ہوا ہےاور کافی تعداد میں شائقین موٹر سپورٹس ریلی کو دیکھنے کےلئے پاکستان کے مختلف صحراؤں میں منعقدہ ریلیوں کی تہذیبی وثقافتی رونقوں سے لطف اندوز ہونے کےلئے دور دراز علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
محض موٹر سپورٹس ریلیز اور اس سے وابستہ لوگوں کا ٹریفک قوانین پرعمل کرنا اور سمجھنا کافی نہیں ہے۔ٹریفک قوانین کی آگاہی کے لئے حکومت وقت کو تعلیمی نصاب میں آئندہ نسل کی تربیت کیلئے اِسے شامل کرنے کےساتھ ساتھ میڈیا پر بھی آگاہی مہم چلانی چاہئے تاکہ عوام میں ٹریفک قوانین پر عمل کرنے کا شعور پیدا کیا جائے۔
عوام کاسڑک سےمتعلق جاننا اتنا ہی ضروری ہےجتناکہ ایک گاڑی چلانےوالےشخص کےلئے۔ عوام میں سڑک پر ایک دوسرے کےلئے تعاون ، صبروتحمل، برداشت اور باہمی ہمدردی کے جذبے کو اجاگرکیا جائے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم میں برداشت ، رواداری اور باہمی ہمدردی کا جذبہ ہونا چاہیئےاگرہم اپنےاندرشائستگی پیدا کریں تو ٹریفک کے کافی سارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گےاورجس کے ذریعےایک دوسرےکےساتھ باہمی تعاون فروغ پائے گا۔یقیناِِ مفادعامہ اورمعاشرتی اصلاح کے لئے حکومتی سطح پر بھی کام ہوناچاہیئے۔اس کےساتھ ساتھ موٹرمالک اور ڈرائیور کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہےکہ وہ اپنی معاشرتی ، سماجی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نہ صرف سمجھے بلکہ اس پر پوری طرح عمل بھی کرے۔
سڑک پرموجودگاڑی کاا صل مقصداپنی منزل مقصودپرپہنچناہوتاہے۔لہذا اس مقصد کے حصول کی خاطرسڑک پرگاڑی چلانے کے تمام اصولو ں پرعمل کرنا ضروری ٹھہرتاہےتاکہ وہ بخیر وآفیت اپنی منزل پرپہنچ جائے۔ڈرائیورکی ذرا سی غلطی اس کو اپنی منزل پر بر وقت پہنچانےمیں تاخیر کروادیتی ہے۔حد رفتار سے تجاوز نہ صرف اپنے لئے نقصان دہ ہے بلکہ دوسروں کےلئے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے ۔ دوران ڈرائیونگ ذرا سی غلطی نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسرے لوگوں کےلئےبھی وبال جان بن سکتی ہے۔یہاں یہ امربھی قابل فکر ہے کہ سڑک کے کنارے ہونے والے حادثات سے بچنے کےلئے عوام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔
اگر سرکاری اقدامات کی بات کی جائے تو ٹریفک کے قوانین ، اس کے انفراسڑکچر اور اس سےملحقہ تمام لوازمات کو پورا کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ڈرائیورکا لائسنس ،سڑکوں کی دیکھ بھال و مرمت ،ٹریفک سگنل ،ٹریفک سائن بورڈ ،زیبرا کراسنگ،سپیڈ بریکر ، یوٹرن اورآئی کیٹس کا معقول بندوبست کرے اور ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پربھاری جرمانے عائد کرےتاکہ ا ن اصولوں پرعمل کرایاجاسکے۔تاہم ان عوامل کے ساتھ یہ سمجھنا بھی بے حد ضروری ہےکہ ریسراور ڈرائیور ز کی ذمہ داری اس سے کہیں زیادہ ہیں۔اگرچہ ہمارے ملک میں ڈرائیونگ کےلئے ایک بہترین اور بنیادی انفراسٹرکچر موجو نہیں لیکن جب سڑک پر موجود ڈرائیورز اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھا ئیں گے تو انفرسٹرکچر کا مسئلہ ایک چھوٹی رکاوٹ معلوم ہوگا۔(جاری ہے)