فارمولاوَن ریس: تعارف
Blog Single

فارمولاوَن ریس: تعارف

حمزہ افتخار

تعارف:

فارمولا وَن ورلڈ چیمپین شپ انٹرنیشنل آٹو موبائل فیڈریشن(FIA) کی سنگل سیٹرموٹر سپورٹس ریسنگ کی سب سے بڑی کلاس ہے- عرفِ عام میں اسے " فارمولا وَن"  کہا جاتا ہے- اس ریس کوگرینڈ پری(Grand Prix)کا نام بھی دیا جاتا ہےجوکہ فرانسیسی زبان کا لفظ ہےجسکا مطلب"گرینڈ پرائز"(Grand Prize)ہے- سنگل سیٹر موٹر سپورٹس ریسنگ کی وہ قسم ہے جس میں صرف گاڑی چلانے والےکے لئے سیٹ ہوتی ہےاور عام  گاڑیوں کےبالکل برعکس گاڑی کے چار پہیے گاڑی کی مرکزی  حدودسے باہر ہوتے ہیں۔ لفظ"فارمولا"اُن اصولوں کا حوالہ دیتاہےجن پر عمل کرنا ڈرائیورزکے لئے نہایت ضروری ٹھہرتاہے۔

عہدحاضرکی فارمولا وَن سالانہ ورلڈچیمپین شپ  بیس ریسوں پر مشتمل ہے۔ہرریس کےنتائج پوائنٹس  کی بنیادپرشمارہوتےہیں جو ہر ڈرائیوراوراُسکی ٹیم کودئیےجاتے ہیں۔ڈرائیورزکی ٹیم کوکنسٹرکٹر(constructor) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ فارمولا وَن میں پوائنٹس صرف اُن دس گاڑیوں کو ملتے ہیں  جو باقی ریسرز سے پہلےاپنا متعین کردہ فاصلہ طے کر لیتے ہیں-  سب سے زیادہ پوائنٹ اس کو ملتے ہیں جو پہلے نمبر پرپہنچتا ہےاور سب سے کم اس کو ملتےہیں جو دسویں نمبر پر آتاہے۔

دنیا کی سب سےتیزتیرین ریس کار" فارمولا ون "کی گاڑی ہے،جودوران ریس عموماً 370  کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ جاتی ہےاسکی بنیادی وجہ ،بڑی تعدادمیں پیدا ہونے والی ایروڈائنیمک  ڈاؤن  فورس Aero dynamic down force)) ہے۔ جیساکہ فارمولاون کےمشہور ڈرائیور اورتین بارچیمپین بننےوالےلیوس ہیملٹن (Lewis Hamilton) نے کہہ رکھا ہے کہ :

                 "فارمولا وَن گاڑی، الٹے ہوائی جہاز کی طرح ہے،جیسےجیسےگاڑی تیز ہوتی ہے ویسے ویسے یہ زمین کی طرف زیادہ                                          زور لگاتی ہے"۔

فارمولا ون کی گاڑی 1950ءسے لے کر عہد حاضرتک بہت تبدیل ہوچکی ہے۔ آج کی گاڑیاں الیکٹرونک سسٹم،ایروڈائنیمک فورس،سسپنشن (Suspension)اور ٹائروں  پر منحصر ہیں۔

مختصر تاریخ اورمشہور ڈرائیورز:

فارمولا ون کا آغاز 1920ء اور 1930ء کے یورپی گرینڈ پری موٹر ریسنگ کے ساتھ ہوا تھا۔دوسری جنگ عظیم کے بعدفارمولاون کاخصوصی 'فارمولا ' 1946ءمیں طے ہوا۔ 1946 ء اور 1950ء کے درمیان اس فارمولہ کے تحت کافی نجی ریسز ہوئیں لیکن دنیا کی سب سے پہلی فارمولا ون چیمپین شپ 1950 ء میں برطانیہ کے شہر سلور سٹون (Silver Stone)میں ہوئی۔1958 ءمیں پھر اس چیمپین شپ کے ساتھ ہی فارمولا ون کی خصوصی ٹیمز کی چیمپین شپ کا بھی آغاز ہو گیا جس کو" کنسٹریکٹر چیمپین شپ "کہتے ہیں۔ہر ٹیم کے دو ڈرائیورزہوتے ہیں جو دو ایک جیسی گاڑیاں دوڑاتے ہیں۔

دنیا کے پہلے فارمولا ون چیمپین ہونے کا اعزاز اٹلی کے گیوسیپ فارینا(Guiseppe Farina) کو حاصل ہے جنہوں نے اپنی الفا رومیو (Alfa Romeo) گاڑی میں 1950ء کی چیمپین شپ جیتی۔فارینا کے بعد1951ء کی چیمپین انہی کی ٹیم کے ایک ڈرائیور نے جیتی جس کا نام جون منول فانگیو(Juan Manuel Fangio)  تھاجوارجنٹیناسےتعلق رکھتا تھا۔ دنیا کے سب سے کامیاب ترین فارمولا ون ڈرائیورز میں سے فانگیو ایک ہیں جنہوں نے ایک بار نہیں بلکہ پانچ بار (1951ء1954ء1955ء1956اور1957ء) کی اعصاب شکن چیمپین شپ جیتیں ۔فانگیو کو 45 سال تک سب سے زیادہ چیمپین شپ جیتنے کا اعزاز اس وقت تک حاصل رہا جب تک مشہور  جرمن ڈرائیور مائیکل شوماکر (Michael Schumacher ) نے  2003ءمیں اپنی چھٹی چیمپین  شپ نہ جیت لی۔یہ اعزاز شوماکرکوہی حاصل ہےکہ  انہوں نےسات دفعہ چیمپین   شپ جیتی  اور اس کے ساتھ انہیں سب سے زیادہ ریسزز جیتنے کا اعزازحاصل ہے ۔ ان سے یہ دو اعزازات ابھی تک کوئی نہیں لے سکا۔

جب بھی فارمولا ون کےعظیم کھلاڑیوں اور چیمپینزکاذکر ہو تو اُن میں برازیل کے ایرٹن  سینا (Ayrton Senna)کا تذکرہ ضروری ہوجاتاہے۔سینا کے گاڑی چلانے کے نڈر اور جارحانہ  انداز نے انہیں تین بار فارمولا ون چیمپین   بنایا۔لیکن بدقسمتی سے سینا 1994 ء کی سین مارینو ریس میں بُرے حادثے کےبعد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ خوفناک حادثہ صرف فارمولا وَن کی تاریخ میں ہی نہیں بلکہ موٹرسپورٹس کی تاریخ میں سب سے بُرے حادثوں میں ایک مانا جاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج کل فارمولا ون میں ہر سال ڈرائیورز کی حفاظت کے لئے تبدیلیاں رونماہوتی رہتی ہیں ۔

شیڈول اور ریس :

عام طورپر، قواعدوضوابط کےمطابق، ہرسال مارچ میں فارمولاون کا سیزن (Season) آسٹریلیا کے شہر میلبورن (Melbourne)  میں منعقدہونےوالی ریس کےساتھ شروع ہوتاہے۔اسی طرح  فارمولاون کی آخری ریس نومبرمیں ابوظہبی (Abu Dhabi) میں منعقد ہوتی ہے۔ایک ریس کی تقریب کل تین دن پر مشتمل ہوتی ہے :جمعہ ،ہفتہ اور اتوار - ہر سال کے آغاز میں پورے سال کے شیڈول کو حتمی شکل دی جاتی ہے جس میں کبھی کبھار ریس کے نئے مقاما ت شامل کئے جاتے ہیں اوربعض اوقات  تبدیل بھی کر دیےجاتے ہیں ۔ دوپریکٹس سیشن جمعہ کےروز اورایک ہفتہ کی صبح منعقد ہوتا ہے۔جبکہ ہفتہ کی دوپہر کوالیفائنگ راؤنڈ ہوتا ہے۔یہ سیشن نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن میں یہ فیصلہ کیا جاتاہےکہ ریس والے دن  (اتوار کو)کون سے ڈرائیورکی گاڑی  گرڈ پہ کس پوزیشن پرکھڑی ہو گی۔جو ڈرائیور سب سے کم وقت میں پورا لیپ مکمل کرتا ہے وہ ریس والے دن سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے۔

مختلف ریسز کےمختلف لیپس(laps) ہوتے ہیں کیونکہ یہ فیصلہ ہرسرکٹ(circuit) کے کل فاصلے پر انحصار کرتا ہے۔ 1989ء سے FIAکی طرف سےریس کا کل فاصلہ 305 کلومیٹرتک محدودکرنےکافیصلہ کیاگیاہے ۔ڈرائیورزکو عام طور پر کم سے کم ایک بار ضرور پِٹ سٹاپ(Pit stop) کرنا پڑتا ہے،تاکہ ان کی گاڑیوں کے ٹائروں کو خراب ہونے سے پہلے تبدیل کر دیاجائے۔ گاڑی میں کسی قسم  کی خرابی کی وجہ سےبھی ڈرائیورکو پِٹ سٹاپ کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔البتہ،جتنا بھی ٹائم پِٹ سٹاپ  میں صرف ہوتاہےوہ پورے ریس ٹائم میں شمار کیا جاتا ہے۔تبھی ہرٹیم کے ممبران کوتیارکیا جاتا ہے کہ وہ کم سے کم وقت میں گاڑی کے چاروں ٹائر تبدیل کرسکیں۔ آج کل کی ریسوں  میں دیکھاجا سکتا ہے کہ کچھ ٹیمیں فقط  تین سیکنڈز میں چاروں ٹائر تبدیل کرنے کی مہارت رکھتی ہیں۔فارمولا ون میں بہت سےقواعدموجودہیں۔ ڈرائیورز ، انکی ٹیم ،گاڑی ، ٹائر اورانجن کے مخصوص حصوں ،سب کے لئے علیحدہ علیحدہ قواعد موجود ہیں۔

فارمولاون کا حالیہ سیزن بہت پرکشش ، انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز ہے جس میں ہار جیت کی پیش گوئی کرنا بہت مشکل کام ہے۔ چیمپئن شپ،ڈرائیورز اور ٹیموں کے متعلق  قیاس آرائی کرنا  آسان نہیں کیونکہ مقابلہ انتہائی سخت ہے۔ جیت کی دوڑ میں سب ایک دوسرے سے آگے ہیں۔ اب تک گیارہ ریسز مکمل ہو چکی ہیں اور جرمن ڈرائیورسیبستین ویٹل(Sebostien Vettle) جو چار مرتبہ ورلڈ چیمپئن بھی رہے ہیں،اس سال کی چیمپئن شپ کی دوڑ میں سب سے آگے محسوس ہو رہے ہیں۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ویٹل کے ساتھ ہی  چیمپئن شپ کی دوڑ میں ہیملٹن موجود ہیں جو تین مرتبہ ورلڈ چیمپئن بن چکے ہیں۔

اسی طرح ٹیم چیمپئن میں مرسڈیز (Mercedes)،جو ہیملٹن کی ٹیم ہے ،وہ فی الوقت آگے دکھائی دیتی  ہے۔لیکن ویٹل کی ٹیم فیراری(Ferrari)اس کے تھوڑے ہی پیچھے ہے جس کی وجہ سے ٹیم چیمپئن ریس بھی بہت دلچسپ ہو چکی ہے۔

2017 ءکے سیزن کے اختتام سے پہلے اب  ذیل8  ریسز باقی ہیں۔

اٹلی (03-ستمبر-2017)،سنگاپور (17-ستمبر-2017)، ملائیشیا (01-اکتوبر-2017)، جاپان (08-اکتوبر-2017)، امریکہ (22-اکتوبر-2017)، میکسیکو(29-اکتوبر-2017)، برازیل(12-نومبر-2017) اور آخر میں ابو ظہبی (26-نومبر-2017)۔

مقابلے کی دوڑ میں فراری اور مرسڈیز کی رفتار میں کم سے کم فرق دیکھ کر  ایک اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 2017 ءکا فارمولا ون قابل دید، سنسنی سے بھرپور اور ناقابلِ پیش گوئی ہوگا ۔

فارمولا ون اتنی مشہور سپورٹس ہونے کے باوجود پاکستان میں اتنی معروف نہیں اور نہ ہی اسے زیادہ   کوریج ملتی ہے۔ہارس پاور میگزین کا اجرا اِس لئے نہایت خوش آئند ہے کہ عوام کو فارمولا ون کے علاوہ باقی بین الاقوامی موٹر سپورٹس کی تقریبات کے بارے میں آگاہی دی جا سکے گی ۔

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ