گوادر ریلی سے متعلق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کےتاثرات
Blog Single

گوادر ریلی سے متعلق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کےتاثرات

ٹیم ہارس پاور

سرزمین پاکستان کے وسیع وعریض رقبے پر محیط صوبہ بلوچستان  کے کثرت رائے سے نومنتخب وزیر اعلی، بلوچستان عوامی پارٹی (ْBAP) کے سربراہ، اپنے خاندان سے منتخب ہونے والےبلوچستان کے تیسرے وزیر اعلیٰ اور پاکستا ن کےآف روڈ ریسر، جام کمال خان نے اس سال گوادر آف روڈ ریلی میں شرکت کرکےاعزاز بخشاءاور ملک بھر سے گوادر ریلی میں شرکت کرنےوالےریسر ز کے اعزاز میں عِشائیہ دیا۔ گوادر آف روڈ ریلی کے بعد بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے ایک رکن نے گوادر ریلی کو معاشی قتل کا نام دیتے ہوئے کہا   کہ صوبائی حکومت کے اس اقدام سے عام آدمی کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟ جس کے جواب میں وزیراعلی بلوچستان جناب جام کمال نےاسمبلی میں تقریر کی جو کہ مندرجہ زیل میں بیان کی جارہی ہے۔

ایسی ریلیز معاشی ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں جنہیں آپ معاشی قتل کا نام دے رہے ہیں۔  آف روڈ ریلی دنیا کا واحد کھیل (Sports) ہے جو عام آدمی کوتفریح کے ساتھ مالی فائدہ فراہم کرتا  ہے۔ مثال کے طور پر کوئٹہ میں ایک تقریب کے انعقاد  کے لئے وسیع اسٹیڈیم درکار ہوگا  جہاں مخصوص لوگ ٹکٹ خرید کر، شرکت کر پائیں گے جس کے  اخراجات بھی اپنی جگہ بہت زیادہ ہوں گے۔  دوسری جانب گوادر ریلی کا تقریبا 230 کلو میٹر طویل ٹریک بلوچستان اور گوادر کے ان دیہاتوں اور گاؤں سے گزرتا ہے  جہاں ہم میں سے کئی  لوگ کبھی گزرے بھی نہیں۔ چونکہ میں ان راستوں سے گزرا ہوں تو 230کلومیٹر کے اس ٹریک پر بہت سے ایسے علاقے آتے ہیں جہاں نہ تو کوئی روڈ ہے،  نہ بجلی اور نہ ہی کوئی سہولت میسر ہے۔ ریس کے دنوں میں ہر پانچ منٹ بعد گاڑی گزرتی  ہے  گاؤں کے تیس چالیس لوگ جن میں بچے بوڑھے اور جوان سب کھڑے ان دوڑتی گاڑیوں کو دیکھتے اور محظوظ ہوتے ہیں۔ اِن تین دنوں کے دوران ریسرز جب ٹریک پر جاتے ہیں تو ان علاقوں سے بھی گزرتے ہیں جِس سے لوگ آپس میں ملتے اور ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ اِس ریس کے ذریعے آپ ایک ایسے طبقے کو تفریح فراہم کر رہے ہیں جس تک  عام حالات میں شاید رسائی بھی ممکن نہیں جو کہ اُن کا بنیادی حق ہے۔

اس ریلی میں تقریباً 80 ریسرزنے شرکت کی جبکہ ہر ریسر کے ساتھ 3 سے 4 گاڑیاں تھیں یعنی ہر ریسر کے ساتھ تین سے چار افراد ہوتے ہیں اس کے علاوہ شائقین کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ایک اندازے کے مطابق اس ریلی میں تقریبا تین سے چار ہزار افراد موجود تھے۔ جب اِتنے لوگ ایک شہر میں جاتے ہیں تو وہاں کیا کرتے ہیں؟ یہ سب آپ کو کسی پنچر والے، سروس والے، گاڑی مکینک یا کسی  ڈھابے کے پاس کھانا کھاتے نظر آئیں گے۔ اِن میں سے اکثر آپ کو اس چھوٹے طبقے والے لوگوں سے جو چھوٹا کاروبار کرتے ہیں ملتے ہوئے نظر آتے ہے۔ یہ سب اپنا کھانا، پینا، راشن اور پیٹرول سب وہیں سے خرید ہوتا ہے۔ PC ہوٹل کے علاوہ تمام چھوٹے بڑ ے ہوٹل اِن لوگوں کے آنے کی وجہ سے بھرے رہتے ہیں جبکہ مقامی لوگ اپنے گھر بھی کرائے پر دیتے ہیں۔ جِس سے اِس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ اس دوران  کتنا پیسہ کما رہے ہیں ،کوئی کوئٹہ، کراچی یا پنجاب والا اس سے پیسے نہیں کما رہا بلکہ اس کا فائدہ صرف گوادر کے مقامی لوگوں کوہو رہا ہے اس پیسے کا بہاؤ ریسرز اور آنے والے لوگوں کی جیب سے مقامی لوگوں کی طرف ہوتا ہے یہ لوگ پاکستان کے مختلف حصوں سے آتے ہیں بلکہ بلوچستا ن کے مقامی افراد بھی ریلی میں شرکت کرتے ہیں اور اگر حکومت بلوچستان نے انتظامات کے لیے کچھ اخراجات کئے ہیں تو گوادر کے لوگ اِس تفریح کے حقدار ہیں۔ ہاں اگر بلوچستان حکومت کے خرچے پر یہ تقریب کراچی ، اسلام آباد یا کسی اور جگہ ہوتی تو آپ یہ سوال کر سکتے تھے کہ اس کا گوادر کو کیا فائدہ ہو گا؟ بےشک ایسی تقاریب سے گوادر کے لوگوں کو قریب آنے میں مدد ملتی ہے اوراس علاقے کا سافٹ امیج منظر عام پر آتا ہے  جس سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ