گوادرجیپ ریلی: ریت کی اُڑان، رفتار کا طوفان، ریسرز کا امتحان
Blog Single

 

گوادرجیپ ریلی: ریت کی اُڑان، رفتار کا طوفان، ریسرز کا امتحان

ٹیم ہارس پاور

گوادرصوبہ بلوچستان کا شہر ہےجوپاکستان کےانتہائی جنوب مغرب میں دنیا کےسب سےبڑےبحری تجارتی راستے پر واقع ہے۔ گوادراپنےشاندارمستقبل اورجدیدترین بندرگاہ کےباعث عالمی سطح پرتعارف کامحتاج نہیں- تین اطراف سےسمندرمیں گھرا، مکران کے ساحل پر موجود یہ شہر اپنے وجود سے اس خطہ زمین کو ایک خوبصورت  و دلفریب، بلکہ شاعرانہ منظر بخشے ہوئے ہے-

جیپ ریلیزجہاں لوگوں کوتفریح فراہم کرتی ہےوہیں پاکستان کےتشخص کوپوری دنیا میں اجاگرکرتی ہے- گوادر جیسے ساحلی شہر میں ایسے ایونٹ کا انعقاد دوسرے ممالک کے ڈرائیورز کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک کے آف روڈ ریسر بحری جہازوں کے ذریعے بآسانی اپنے ممالک سے مرضی کی گاڑیاں تیار کروا کر شرکت کر سکتے ہیں۔ جو سہولتیں گوادر میں میسر ہیں وہ پاکستان میں شاید ہی کسی اور آف روڈ ریلی ٹریک کو میسر ہوں اِس لئے گوادر آف روڈ ریلی بہت زیادہ توجہ کی حامل ہے۔

حکومتِ بلوچستان اور پاک آرمی کے تعاون سے تیسری آف روڈ گوادار ریلی کا باقاعدہ آغاز 19 اکتوبر بروز جمعہ کو ہوا جس کے سب سےبڑےسپانسراورآرگنائزررئیس بلڈر اینڈ انٹرپرائیزر تھے۔ گوادرریلی تین ایام جمعہ، ہفتہ اور اتوارپرمشتمل تھی۔ کوالیفائنگ راؤنڈکے لیے27پریپئرڈ، 48 اسٹاک اور4خواتین ریسرزگاڑیوں نےرجسٹریشن کروائی۔ ریسرزنےاپنی مہارت و صلاحیت اور اہلیت وقابلیت کے قابلِ تحسین جوہردکھاتےہوئے شائقین سےداد وصول کی۔ کوالیفائنگ راؤنڈ اسٹاک کیٹگری کامقابلہ گوادارکےایک مقامی کلب ڈرائیورجیانڈ ہوتھ  (Jeeyand Hoth)نےاپنےنام کیاجبکہ پریپئرڈکیٹگری میں میرنادرمگسی نے پوزیشن حاصل کی۔ 20 اکتوبر صبح 8:50پرجیانڈ ہوتھ نے پہلی گاڑی نمبر 503 سےاسٹاک کیٹگری کی ریس کا آغاز کیا ۔جس کے بعد ہر 5 منٹ کے وقفے سے گاڑیاں روانہ ہوئیں۔

سروں پہ ہیلمٹ پہنے ، قوی و مضبوط ’’ہارنِسسز‘‘ باندھے ، گاڑیوں کو نیوی گیشن آلات سے مزین کئے،  ہواؤں سے جھگڑتے ، بے باکی و دلیری سے راہوں کا سینہ چیرتےارضِ پاک کےسپوت، جب ٹریک مکمل کرکے پویلئن کوپہنچتےتوبلوچستان کےمختلف حصوں سےآئے ہوئے شائقین اُن کا بھر پور استقبال کرتے۔ دُور دراز سے آئے شائقین ریس میں دوڑتی، فراٹے بھرتی گاڑیوں کو دیکھ کر محظوظ ہوتےاور دل کھول کر تالیاں اور سیٹیاں اورنعرے لگا کر ڈرائیورز کا حوصلہ بڑھاتے،تا کہ انہیں اور تیز دوڑنے پر اکسایا جائے ۔

ریس کی تمام کیٹگریز میں پوزیشن ہولڈرز بالترتیب یوں تھے:

اسٹاک کیٹگری

اے- اسٹاک کیٹگری میں 28 گاڑیوں نے اپنی ریس مکمل کی جن میں سے منصور حلیم نے مقررہ فاصلہ 2:31:32 میں طے کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ حاجی عمر کرد نے 2:40:41 سے دوسری اور حاجی وحید لیاری نے2:43:45کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی ۔

بی- اسٹاک کیٹگری میں ملک بلال عاشق نے 2:31:29 کے ساتھ پہلی،جبکہ ایران سے آئے عبدالواحدنے مقررہ فاصلہ 2:32:39  میں طےکرکےدوسری پوزیشن اپنے نام کی ،جبکہ سجاد قریشی نے2:40:47کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

سی- اسٹاک کیٹگری میں عثمان ندیم نے 2:43:09 کے ساتھ پہلی،چوہدری سعود مجید نے 2:50:10 کے ساتھ دوسری جبکہ سید امیر علی شاہ نے 2:58:08 کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

ڈی- اسٹاک کیٹگری میں بشیراحمدنے 03:02:11  کے ساتھ پہلی، بیوراگ مزاری نے 03:18:58 کے ساتھ دوسری جبکہ میر ذاکر خان نے 03:27:47کےساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

پریپئرڈ کیٹگری

اے- پریپئرڈکیٹگری میں میرنادرمگسی نےکوالیفائنگ راؤنڈ میں پہلی پوزیشن حاصل تھی۔ جس کےمطابق میرنادر خاں نےسب سےپہلےگاڑی سٹارٹنگ پوائنٹ سےروانہ کر کےپریپئرڈکیٹگری کی ریس کاآغازکیااورمقررہ فاصلہ 02:07:05 میں طےکر کے پہلی پوزیشن حاصل کی۔جبکہ صاحبزادہ سلطان نے47 سیکنڈ کےفرق سے02:07:52 کے ساتھ دوسری  پوزیشن اپنے نام کی اور میر جعفر مگسی دس منٹ کے فرق سے02:17:32 کےساتھ تیسری  پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

بی- پریپئرڈ کیٹگری میں فیصل حسن خان نے 02:31:18 میں مقررہ فاصلہ طے کر کے پہلی پوزیشن اور زین محمود نے 02:34:48کے ساتھ دوسری اور نعمان سر انجام نے03:07:31 کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

سی- پریپئرڈ کیٹگری کے مقابلوں میں شیراز قر یشی نے مقررہ فاصلہ 02:31:28 میں طے کر کے پہلی، جبکہ ندیم خان 03:37:20 نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

ڈی- پریپئرڈ کیٹگری میں میاں رفیق احمد نے02:55:12 میں مقررہ فاصلہ طے کیا اور پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جبکہ اعجاز ماڑی نے 02:59:06 کے ساتھ دوسری اور ارباب علی نے02:59:22 کےساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

وومن کیٹگری

خواتین کیٹگری کےمقابلے میں ٹشنہ پٹیل نےمقررہ فاصلہ 01:34:28 میں طے کر کے پہلی پوزیشن، جبکہ عاصمہ رضا صدیقی نے 01:43:59 میں مقررہ فاصلہ طے کر کے دوسری اور سلمٰہ مروت نے 01:52:57 میں طے کر کے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔

(نتائج کی تصویرتصاویرمیں دی گئی ہے وہ اپنے فارمیٹ میں بنائیں)

تقریبِ تقسیم ِانعامات

ریس کی اختتامی تقر یب، تقریبِ تقسیم انعامات ، رات آٹھ بجے گوادر کے اسٹیڈیم میں منعقد کی گئی۔

اس تقریب میں جناب کمانڈر سدرن کمانڈلیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ اورمہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان جناب جام کمال صاحب نےشرکت کرکے محفل کو چار چاند لگائے۔ وزیر اعلی بلو چستا ن اور کمانڈر سدرن کما نڈ نے فاتح ریسر ز کےدرمیا ن انعامات تقسیم کئے۔ Team 4×4  کی طر ف سے اے- پریپئرڈ میں تیز تر ین ریسرکےلئےمیر نا درمگسی کو ایک لاکھ کا انعا م دیا۔ جبکہ اسٹاک کے تیز ترین ریسر ملک بلا ل عا شق کے لئے 75 ہزار اور خوا تین کیٹگری میں اؤل آنےوالی ٹشنہ پٹیل کےلئے50 ہز ارکاانعا م مختص کیاگیا۔

ٹیم ہارس پاور اور شرکاء کے تاثرات

ٹیم ہارس پاور نے ریلی کےشرکاء سے انٹرویولئےاور جس میں عوام کےتاثرات بہت مثبت تھے۔عوا م کا کہنا تھا کہ جہاں ریلی سےسیاحت کو فروغ ملے گا وہیں پاکستان کے قدرتی مناظراورچھپےنظارےبھی سامنےآئیں گئے۔ ملکی سطح پراس طرح کے ایونٹس جہاں نوجوان نسل میں ہمت، جرأت اور ولولہ پیدا کرتے ہیں وہیں ان کی توانائیوں کے مثبت استعمال کا اہم ذریعہ بھی ثابت ہوتے ہیں- پاکستان موٹر ریلی ایسی کاوش ہے جو ملی یکجہتی کے فروغ اور قومی سوچ کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

صا حبزادہ سلطا ن نے ٹیم ہارس پاور سے با ت کر تے ہو ئے کہا کہ وہ گو ادر کو آنے والے وقت میں پا کستا ن اور دنیا کے معا شی حب کے طو پردیکھ رہے ہیں لیکن یہ اس وقت ممکن ہو گا جب گوادر کے لوگوں کے اور قومی سکیورٹی خدشا ت دور ہوں گے۔ یہ ریلی دنیا کو پیغام دے رہی ہے کہ گوادر پُرامن جگہ ہے اس کے علاوہ سی پیک(CPEC)  کی کامیا بی میں بھی اہم کر دار ادا کرے گی۔ ایرا ن سے آئے ہو ئے ریسر عبدالواحد نے فار سی میں انٹرویو دیتے ہوئے گوادر اور یہاں کے لو گوں کی بہت تعریف کی۔ میر نادر مگسی کے مطابق دوسری ریس کے بعد یہا ں کی پراپرٹی میں20 لا کھ اضا فہ ہوا اور اب تیسر ی ریس کے بعد مزید تر قی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ریسسز نہ صرف سیا حت کو فروغ دیتی ہیں بلکہ یہاں کے لو گو ں کامثبت امیج بھی اجا گر کر تی ہیں۔ کچھ دکانداروں کے مطابق ریس کے آغا ز سے پہلےہی یہاں پرریسرز کی آمد کےساتھ ہی لوگو ں کی آمدو رفت کا سلسلہ بھی شرو ع ہو جا تا ہےاوروہ صر ف ایک ہفتے میں ایک سا ل کے برابر منافع کمالیتےہیں۔

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ