موٹر سپورٹس کی تاریخ( آخری قسط)
Blog Single

 

موٹر سپورٹس کی تاریخ

آخری قسط

حمزہ افتخار

میگزین کے گزشتہ دو ایڈیشنز موٹر سپورٹس کی تاریخ پر مشتمل تھے ۔ خاص طورپرقسط اوّل میں  19ویں صدی کےآخرمیں ایجادہونےوالےمبسچن انجن اور اِس کی بدولت موٹرسپورٹس نے جو ترقی کی اُس پر بات کی، جبکہ قسط دوئم میں ان پانچ ریسز پہ نظر ڈالی جِن کی وجہ سے موٹر سپورٹس ریسنگ کی دنیاتبدیل  ہوئی۔ ان ریسسزمیں گورڈن بینٹ ریس 1900ء سے لیکر1905ء، پِکنگ پیرس ریس 1907ء، نیو یارک-پیرس ریس1908ء، دی وینڈربِلٹ کپ1904ءسےلیکر1968ء اورتورگافلوریو 1906ء سے 1977ء تک ہوتی رہیں جِن پر تفصیلی تذکرہ کیا گیا۔ اِن پانچ ریسز نے موٹر سپورٹس کو کیسےترقی دی یہ جاننے کے لئے ہارس پاور کے گزشتہ دو ایڈیشن کو دیکھاجاسکتاہے۔

موجودہ مضمون عصر حاضرکی پانچ ریسزپر مشتمل ہے جن کی وجہ سے جدید دنیا میں موٹر سپورٹس کے کلچرمیں بہتری آئی اورتبدیلیاں رونما ہوتی چلی گئیں۔ ان پانچ ریسزمیں پیکولم انڈین ایپولس 500،جسے انڈی 500 بھی کہا جاتا ہے (1900سے لیکرموجودہ دورتک)، 24آورز لی مان(1923ء میں شروع ہوئی اورآج بھی ہو رہی ہے)، دی ملی مگلیا(1927ء سے 1957ءتک)، مونکو ایف ون گرینڈ پری(1929ءسے لیکر آج تک) اور کریرا پینا ماریکانہ1950ء جوایک ریس ہی منعقدہوئی تھی۔

1-انڈین ایپولس 500  -(Indianapolis 500)1911ء سے عصر حاضر تک۔

موٹر سپورٹس کیلنڈر میں معروف  ریسز میں سے انڈی 500 ایک مشہور ریس ہے جس کا آغاز 1911ء میں ہوا اور آج بھی ہر سال مئی کے آخری ہفتے میں منعقدکی جاتی  ہے۔ اس ریس کاجائےوقوع بہت ہی مشہور ریس ٹریک ہے۔ اس ریس ٹریک کی شکل بیضوی ہےاوراس کو انڈین ایپولس موٹر سپیڈ وے بھی کہتے ہیں۔ یہ ٹریک امریکہ  کے شہر انڈین ایپولس میں واقع ہے۔ سرکٹ ریسز کی دنیا میں، اس ٹریک پر تیز ترین ریس ہدف عبور کیے جاتے ہیں۔جس میں گاڑیاں 320 کلومیڑفی گھنٹہ کی رفتارسے نہ صرف بھاگتی ہیں بلکہ اُڑتی دکھائی دیتی ہیں۔(تصویر01)

 انڈین ایپولس500میں موجودپانچ سوکاہندسہ نشاندہی کرتاہےکہ ریس میں آغازسےاختتام تک ٹریک کا جوفاصلہ میل میں ہے اُسےنمایاں کیاجائے۔ مقررہ فاصلہ طےکرنےکےلئے تقریباًٹریک کے200 چکر بنتے ہیں۔ پہلی انڈی 500 ریس رے ہارون نے 30 مئی 1911ء میں جیتی اور جس کی گاڑی کا نام’’مارمن ماڈل 32 بیسٹ واسپ‘‘ تھا۔ اس ریس کےنتائج پر باقی ڈرائیورز نے تحفظات کا اظہارکیاکیونکہ رے ہارون نے ریس کے قوانین کی پاسداری نہیں کی۔ رے ہارون نے یہ سفر اپنے ساتھ بغیر مکینک بیٹھائے طےکیا۔ مکینک ریس کے دوران آئل وغیرہ چیک کرنے اور پیچھے آنے والے ڈرائیورز کے بارے آگاہ کرتا ہے۔ اس ریس کا انعام 50 ہزار ڈالر تھا جس کی وجہ سے بہت سے ممالک کے لوگوں کا اس کی طرف رجحان ہوا اور یہ ریس  مشہوری ہوئی۔ یورپین کارز بنانےوالی کمپنیز، پیوگیٹ اور فیئٹ (Peugeot and Fiat) نے بھی ریس میں شرکت کی جس سےریس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔(تصویر02)

جنگ عظیم اوّل اور دوئم کے بعد انڈین ایپولس موٹر سپیڈوے کا مستقبل پُر امید نظر نہیں آرہاتھا۔ عالمی جنگوں کے دوران تیز ٹریک بند ہو گیا اور کوئی ریس منعقدنہ ہوئی جس کی وجہ سے وہاں گھاس اگنے لگا۔ ٹریک کی رونقیں ماند پڑنے لگیں ۔ ٹریک کی سطح بریکس  سےبنائی گئی تھی ، جس کی  مرمت ناممکن محسوس ہو رہی تھی اسی  وجہ سے پروفیشنل ریس کا انعقاد  ناممکن لگ رہا تھا ۔بالآخر ایک لوکل ’’ٹونی ہُلمن‘‘نےیہ اعزاز حاصل کیاکہ ٹریک میں دوبارہ جان ڈال دی اوریوں امریکن موٹر ریسنگ کاسنہری دورپنپنےلگا۔ وقت کےساتھ انڈین ایپولس 500 دنیاکی مقبول ترین ریس بن گئی جس کو آج لاکھوں کی تعداد میں لوگ دیکھتے ہیں۔

2- 24آورز  لی مان -(24 Hours Le Mans)1923ء سے موجودہ دور تک۔

24 آورز لی مان دنیا کی قدیم اور مقبول ترین انڈیورنس(Endurance) ریس ہےجوآغازسےمسلسل ہرسال منعقد کی جارہی ہے۔ اصل میں اس کو منعقد کرنے کا مقصد گاڑیوں کی پروڈکشن، ایفی شینسی اور ریلائے بیلٹی چیک کرنا تھا۔یہ ریس سارت سرکٹ (Circuit de la Sarthe)میں منعقد کی جاتی تھی۔ اس ریس میں لی مان کے علاقے فرانس میں دنیا کی مشہور ترین گاڑی کے مینو فیکچرر نے شرکت کی تھی۔ لی مان کواس وجہ سےبھی خاص اہمیت حاصل ہےکہ اس ریس میں مختلف گاڑیوں کےمینو فیکچررز کی بہت زیادہ مداخلت رہی اوردلچسب مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ اس کی مقبولیت کی بہت سی وجوہات میں سے بیشک اس کی بڑی  وجہ انڈیورنس ریس(ریس کی اقسام میں سے ہے)بھی ہے۔1960ء کا دور اس مقابلہ کی وجہ سے بہت مشہور رہا ہے۔ ہنری فورڈ(بانی فورڈ کمپنی) نے اٹلی کی فراری خریدنے کی ناکام کوشش کے بعد دعویٰ کیا اور تہیہ کیا کہ وہ فراری کو ریس ٹریک کے اوپر شکست دے گا۔ اسی وجہ سے ہنری فورڈ نے اپنی گاڑیاں بنانے کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری  کی تاکہ وہ فراری کو ہراسکے۔ اسی طرح سے 24آورز لی مان میں ہمیں بہت عمدہ گاڑیاں بھی نظر آتی ہیں جن میں مشہور ترین Ford Mark iv,Ferrari 250 GTO, Porsche 917, Chevrolet Corvette ہیں۔(تصویر03)

24آورز لی مان ریس میں ہمیں ریس سٹارٹ کرنے کا ایک نیا طریقہ دیکھنے کو ملتاہےجس کو لی مان سٹارٹ کہاجاتا ہے۔ اس سٹارٹ کی خصوصیت یہ تھی کہ گاڑیوں کو ایک لائن کے اندر کھڑا کیاجاتااور ریس کی شروعات کا جھنڈا لہرایا جاتا تو سارے ڈرائیور اپنی گاڑیوں کی طرف بھاگتے،گاڑی میں بیٹھتے،گاڑی سٹارٹ  کرتے ،ریورس کرتے اور ریس شروع کر دیتے۔یہ سارا عمل ڈرائیورز بغیر کسی مدد کے کرتےنظرآتے ہیں۔ اس ریس کی بھاگ دوڑ والی ترتیب بعد میں ختم کر دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈرائیور ایک دوسرے سے بازی لینے کے لیے حفاظتی اقدامات بھول جاتے تھے۔ جس کا بعد میں بہت زیادہ نقصان بھی اٹھانا  پڑا۔ آج24آورز  لی مان 5000 کلو میٹر سے زائد فاصلہ طے کرتی ہے۔ ایک  اوسطََ فارمولا گراں پری سے یہ تقریباً اٹھارہ دفعہ لمبا راستہ ہے۔(تصویر04)

3- ملی مگلیا (Mille Miglia)،1927ء سے1957ءتک۔

ملی مگلیا ایک حیران کن ریسز میں سے آخری روڈریس تھی جو1927ء میں شروع ہوئی۔ اس ریس میں، (ایک اٹالین، کو نٹ ایمیو میگی، جو گاڑیوں سے جنون کی حد تک  کا شوق رکھتا تھا)نےاپنی گاڑی (اسوٹا فریچینی SS 8-A )سے پہلی ریس میں خود حصہ لیا۔ اس ریس کا آغاز اور اختتام بریسکاکےعلاقے میں ہوتاتھا۔ یہ ٹریک ایک ہزار میل اٹالین پہاڑی علاقے پرمشتمل ہے۔(تصویر05)

 اس ریس میں گو کہ  مختلف کمپنیز کی مشہور ترین سپورٹس کارز حصہ لیتی رہیں جِن میں مزریٹی، اسوٹا، فیئٹ، فراری اور ایلفا رومیو وغیرہ شامل رہیں بڑی بڑی کمپنیز کی شرکت کے باوجود اس  ریس کو 1957ء میں ختم کر دیا گیاجِس کی وجہ ایک جان لیوا کار حا دثہ تھا۔ اس میں سپین سے تعلق رکھنے   والا  فراری کا ایک ڈرائیور ،ایک نیوی گیٹر اور ریس دیکھنے والے نوافراد جن  میں پانچ بچے بھی شامل تھے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔(تصویر06)

4- مونکو گراں پری (Monaco Grand Prix)، 1929ء سے آج تک۔

یہ فارمولاون کی مشہورترین ریسز میں سےایک ہےجِس کا شماربھی لی مان اورانڈی 500 کےساتھ ہو تاہے۔ یہ تینوں ریسز ایف ون چیمپئن شپ کا حصہ ہیں۔ ان تینوں کو موٹر سپورٹس کےٹرپل کراؤن کا نام بھی دیا جاتاہے۔ مونکو گراں پری سرکٹ ڈی مونکو میں منعقد ہوتی ہے ۔(تصویر07)

1929ء سے پہلے مونکو گراں پری سرکٹس کو خصوصی طور پر تیار کیا گیا جِن پر ریسز منعقد کی جانی تھیں۔ مو نکو گراں پری ایک ایسی ریس تھی جس نے ریسنگ کی دنیا میں نئی شروعات کیں۔ یہ سرکٹ مونکو کے دارالحکومت مونٹی کرلو کے لوکل روڈز پر موجود ہے جس میں ایک Tunnelبھی آتی  ہے۔ اس ریس ٹریک میں جسے سٹریٹ سرکٹ بھی کہا جاتا ہے گاڑیوں کی موومنٹ کا صحیح امتحان لیا جاتا ہے۔(تصویر08)

مونکو گراں پری کی شروعات کی  ریسسزپر Bugatti نے غلبہ پائے رکھا۔ اس کی وجہ بو گاٹیز کی روڈ گرفت تھی جبکہ 1930 ء میں Alfa Romeo 8c Monza اپنا غلبہ جماتی ہے۔ایرٹن سینا جو کہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں All time  سب سے بڑے ڈرایئورہیں۔اس نے مونکو گرانڈپری میں سب سےزیادہ بارجیتاہے۔ جوکہ چھ فتوحات پر مشتمل ہیں جس میں  سےپانچ لگاتار1989ءاور 1993ء کے درمیان کی فتوحات ہیں۔

5-کریرا پینا ماریکانہ(Carrera Panemercana)، 1950ءسے 1955ءتک ۔

یہ ایک تاریخی ریس ہے جس کو میکسیکو میں1950ء میں منعقد کیا گیا۔ اس ریس کو منعقد کرنےکا اصل مقصد بیان کیا جاتا ہےکہ پینا ماریکانہ ہائی وے کو مشہور کرناتھا۔ کریرا پینا ماریکانہ کی پہلی ریس، پانچ دنوں اور نو مراحل پرمشتمل تھی جس کافاصلہ تین ہزارتین سو کلومیٹرتھا۔ ریس کےشروع کے دو سال بعد یہ خطرناک ترین ریس قرار دے دی گئی جس کی کئی وجوہات تھیں۔ جن میں ایک وجہ ایلوویشن (سطح سمندر سے روڈ کی اونچائی ہر جگہ سے مختلف تھی) کی تبدیلی تھی۔ یعنی گاڑی کے کاربوریٹر کو روڑ کی چڑھائی اور اُترائی کے لحاظ سے بار بار سیٹ کرنا پڑتا جو کہ بہت بڑا مسئلہ تھا۔(تصویر09)

پورش اس ریس میں کافی کامیاب رہی جس سے پورش کی  ٹیم نے کئی اعزاز اپنے نام کئے۔یہ یقینی طورپر پورش کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 1955ء میں لی مان کریش کے بعد یہ ریس اور اِس طرح کی دیگر لمبی ریسز کو بند کر دیا گیا۔ 1988ء میں ایڈوارڈو- ڈی- لی اون کمارگو (Eduardo De Leon Camargo) نے اِس ریس کو دوبارہ شروع کرنا چاہا اور کامیاب ہوا۔ اب منعقد ہونے والی ریس میں اصل ٹریک کا صرف کچھ حصہ استعمال کیا جاتا ہے۔(تصویر10)

بہت ساری کامیابیوں کے بعد پورش نے اپنی دو گاڑیوں کا نام اس ریس ٹریک کی مناسبت سے رکھا جس میں ا یک کریرا اور دوسری پینا مارا ٹوررتھی۔

یوں ہماری موٹر سپورٹس کی تیسری اور آخری قسط کااختتام ہوتا ہے۔ قارئین کی محبت اور دلجوئی کا شکرگزارہوں۔

پوسٹ کو شئیر کریں:

متعلقہ پوسٹ